امریکا:ایران کے ساتھ تمام جوہری ایشوز طے پانے کی تردید

جنیوا معاہدے پرعمل درآمد کے حوالے سے تین نکات پرعدم اتفاق ہے:عباس عراقچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکا نے ان ایرانی رپورٹس کی تردید کردی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ جوہری معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق تمام اختلافی امور طے کر لیے گئے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی خاتون ترجمان جین ساکی نے جمعہ کو واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ ''گذشتہ چند روز کے دوران ہم نے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔اب چند ایک تصفیہ طلب امور رہ گئے ہیں لیکن اس مرحلے پر یہ کہنا کہ ہر چیز کو حتمی شکل دے دی گئی ہے،درست نہیں ہے''۔

قبل ازیں ایران کے مذاکرات کار عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ''ایران اور یورپی یونین نے عدم اتفاق والے تمام نکات کا حل تلاش کر لیا ہے''۔مگر امریکا کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات درست نہیں۔

درایں اثناء یوری یونین نے کہا ہے کہ دونوں فریقوں نے جنیوا میں مذاکرات کے دوران نومبر میں طے پائے معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے بہت اچھی پیش رفت کی ہے۔یورپی یونین کے ترجمان مائیکل من نے کہا کہ ''ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیلگا شمڈ اور ایران کے نائب وزیرخارجہ عباس عراقچی نے تمام بقیہ امور پر بہت اچھی پیش رفت کی ہے۔

ایران اور یورپی یونین کے مذاکرات کاروں نے جمعہ کو دوسرے روز نومبر میں طے پائے معاہدے پر عمل درآمد کے سلسلے میں اختلافی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ وہ 24نومبر کو طے پائے ابتدائی سمجھوتے سے متعلق تین متنازعہ امور پر اپنی توجہ مرکوز کررہے ہیں۔

انھوں نے ایران کے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمارے درمیان تین نکات پر عدم اتفاق پایاجاتا ہے،اگر ہم نے ان امور کو طے کر لیا تو پھر جنیوا ڈیل کو روبہ عمل لایا جاسکے گا''۔

انھوں نے جنیوا میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن کی نائب ہیلگا شمڈ سے مذاکرات کیے ہیں۔مس آشٹن کا دفتر ایران کے ساتھ جوہری تنازعے پر مذاکرات میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کی نمائندگی کررہا ہے۔

عباس عراقچی نے بتایا کہ انھوں نے جمعرات کو معاہدے کے دو ایک بقیہ نکات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔پھر مذاکرات میں وقفہ کردیا گیا تا کہ مس شمڈ پانچ بڑی طاقتوں اور جرمنی کے ساتھ مشاورت کرسکیں۔انھوں نے کہا کہ مس شمڈ پر بھاری ذمے داری عاید ہوتی ہے کیونکہ انھیں ہر ایشو پر ان چھے ممالک سے مشاورت کرنا پڑتی ہے۔ان کے بہ قول ایران اور ان چھے بڑی طاقتوں کی حکومتیں حتمی معاہدے کی منظوری دیں گی۔

مذکورہ معاہدہ چھے ماہ کے عبوری دورے کے لیے ہوگا۔اس دوران اگر ایران یورینیم کی افزودگی سے دستبردار ہوجاتا ہے تو پھر اس پر عاید عالمی پابندیوں میں نرمی کردی جائے گی۔ اس کے تحت ایران آیندہ چھے ماہ کے دوران افزودہ یورینیم کو پانچ فی صد کی سطح تک لائے گا۔وہ اپنی بیس فی صد تک افزودہ یورینیم کو بیرون ملک منتقل کردے گا اوریورینیم کو پانچ فی صد کی سطح سے زیادہ مصفیٰ کرنے کے پروگرام کو منجمد کردے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں