ایران اور یورپی یونین کے درمیان جوہری مذاکرات میں پیش رفت
فریقین کے مذاکرات کاروں کا جوہری معاہدے کے متنازعہ امور پر تبادلہ خیال
ایران اور یورپی یونین کے مذاکرات کاروں نے جمعہ کو دوسرے روز نومبر میں طے پائے معاہدے پر عمل درآمد کے سلسلے میں اختلافی امور پر تبادلہ خیال کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ 20 جنوری تک اس معاہدے کے نفاذ کے لیے کوشاں ہیں۔اس کے تحت جوہری پروگرام کو رول بیک کرنے کے بدلے میں ایران پر عاید عالمی پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ وہ 24نومبر کو طے پائے ابتدائی سمجھوتے سے متعلق تین متنازعہ امور پر اپنی توجہ مرکوز کررہے ہیں۔انھوں نے ایران کے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمارے درمیان تین نکات پر عدم اتفاق پایاجاتا ہے،اگر ہم نے ان امور کو طے کر لیا تو پھر جنیوا ڈیل کو روبہ عمل لایا جاسکے گا''۔
وہ جنیوا میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن کی نائب ہیلگا شمڈ سے مذاکرات کررہے ہیں۔مس آشٹن کا دفتر ایران کے ساتھ جوہری تنازعے پر مذاکرات میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کی نمائندگی کررہا ہے۔
عباس عراقچی نے بتایا کہ انھوں نے جمعرات کو معاہدے کے دو ایک بقیہ نکات پر تبادلہ خیال کیا تھا۔پھر مذاکرات میں وقفہ کردیا گیا تا کہ مس شمڈ پانچ بڑی طاقتوں اور جرمنی کے ساتھ مشاورت کرسکیں۔انھوں نے کہا کہ مس شمڈ پر بھاری ذمے داری عاید ہوتی ہے کیونکہ انھیں ہر ایشو پر ان چھے ممالک سے مشاورت کرنا پڑتی ہے۔
مذاکرات کے پہلے روز ان دونوں نے امریکا کی اعلیٰ جوہری مذاکرات کار وینڈی شرمین سے بھی ملاقات کی تھِی۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق مس شرمین نے انھیں سمجھوتے پر مشترکہ لائحہ عمل سے متعلق مفید معلومات فراہم کی ہیں۔
مذکورہ معاہدہ چھے ماہ کے عبوری دورے کے لیے ہے۔اس دوران اگر ایران یورینیم کی افزودگی سے دستبردار ہوجاتا ہے تو پھر اس پر عاید عالمی پابندیوں میں نرمی کردی جائے گی۔ اس کے تحت ایران آیندہ چھے ماہ کے دوران افزودہ یورینیم کو پانچ فی صد کی سطح تک لائے گا۔وہ اپنی بیس فی صد تک افزودہ یورینیم کو بیرون ملک منتقل کردے گا اوریورینیم کو پانچ فی صد کی سطح سے زیادہ مصفیٰ کرنے کے پروگرام کو منجمد کردے گا۔
اس سمجھوتے کے تحت ایران اضافی ایندھن کی تیاری کا تجربہ بھی نہیں کرے گا اور نہ مزید ایندھن پیدا کرے گا۔نیز وہ جوہری تنصیب میں باقی ماندہ آلات نصب نہیں کرے گا۔ وہ اپنے جوہری ری ایکٹر پر کام کرے گا اور نہ اس ری ایکٹر کی جگہ پر ایندھن یا بھاری پانی کو منتقل کرے گا۔اس سمجھوتے کے بعد سے ایران کو قریباً سات ارب ڈالرز تک ریلیف ملا ہے اور مغربی ممالک نے اس پر عاید کردہ بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی کردی ہے۔