یمنی قبائلیوں کے حملوں میں چھے فوجی ہلاک

ناروے کی تیل کمپنی کو جنوبی صوبہ حضرموت میں کام بند کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

یمن میں مسلح قبائلیوں نے جنوب مشرقی صوبے حضرموت میں فوجیوں اور فوجی تنصیبات پر حملے تیز کردیے ہیں اور ان کے دو تازہ حملوں میں چھے فوجی مارے گئے ہیں۔

ایک مقامی سرکاری عہدے دار نے بتایا ہے کہ مسلح قبائلیوں نے اتوار کو بحیرہ عرب کے کنارے واقع شہر الشہر میں ایک فوجی کیمپ پر قابض ہونے کی کوشش کی ہے اور ان کے حملے میں چار فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

شہر کے مکینوں نے مختلف علاقوں سے مارٹروں اور راکٹ گرینیڈوں کے چلنے کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے۔اس حملے سے چند گھنٹے قبل مسلح قبائلیوں نے ناروے کی کمپنی کے زیرانتظام تیل کے ایک کنویں کی حفاظت پر مامور فوجیوں پر حملہ کردیا تھا۔اس حملے میں دو فوجی ہلاک اور چھے زخمی ہوگئے تھے۔

اس سے ایک روز قبل ہی قبائلیوں کے اتحاد نے کمپنی کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی تمام سرگرمیاں معطل کردے۔ان کی جانب سے یہ دھمکی اپنے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر دی گئی تھی۔ ادھر اوسلو میں ڈی این او کے عہدے داروں نے یمنی قبائلیوں کے مطالبے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

وہ دسمبر کے اوائل میں ایک فوجی چیک پوسٹ پر جھڑپ میں مارے گئے معروف قبائلی سردار سعید بن ہبریش کے قاتل فوجیوں کو حوالے کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن یمنی حکومت نے ابھی تک اس مطالبے پر کوئی کان نہیں دھرے۔

جنوبی یمن میں دسمبر میں فوج کی فائرنگ سے اس قبائلی سردار کی ہلاکت کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے اور قبائل کا اتحاد اس واقعہ کے خلاف احتجاج کررہاہے۔اس قبائلی سردار اور ان کے محافظوں کو فوجیوں نے ایک چیک پوائنٹ پر روکا تھا اور ان سے اسلحہ حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن محافظوں کے ایسا کرنے سے انکار کے بعد ان کے درمیان مسلح جھڑپ ہوگئی تھی۔

اب علاقے کے قبائلی اپنے سردار سعید بن ہبریش کے قاتل فوجیوں کو حوالے کرنے کے علاوہ جنوبی صوبہ حضرموت سے فوج کے مکمل انخلاء اور مقامی لوگوں کو مزید ملازمتیں دینے کے مطالبات کررہے ہیں۔اس قبائلی سردار کی ہلاکت کے بعد حضرموت اور دوسرے جنوبی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں اور مسلح افراد کی فوجیوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی ہیں۔حضرموت میں مسلح قبائلیوں نے گذشتہ ماہ وزارتِ تیل کی ایک عمارت پر قبضہ کر لیا تھا۔وہ حکومت سے اپنے مطالبات تسلیم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ یمن کی حکومت کو جنوبی صوبوں میں شورش پسندی اور علاحدگی کی تحریک کے علاوہ القاعدہ کے جنگجوؤں کا سامنا ہے اور شمال میں شیعہ حوثی باغی سرکاری سکیورٹی فورسز سے برسرپیکار ہیں۔وہ 2004ء سے یمن کے شمالی علاقوں میں خودمختاری کے لیے مسلح جدوجہد کررہے ہیں۔انھوں نے تب سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائے تھے اور ان پر حوثیوں کو سیاسی اور اقتصادی طور پر دیوار سے لگانے کا الزام عاید کیا تھا حالانکہ وہ خود زیدی شیعہ فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں