کیمیائی ہتھیاروں کی نگران تنظیم کا شامی مشن پر غور کے لیے اجلاس
بین کی مون اور تنظیم کے سربراہ کا شامی ہتھیاروں کی تلفی کا عمل تیز کرنے سےاتفاق
کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی عالمی تنظیم کا آج جمعرات کو ہیگ میں اجلاس ہورہا ہے جس میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں اور زہریلی گیسوں کو ٹھکانے لگانے کا عمل تیز کرنے پر تبادلہ خیال کیا جارہا ہے۔
تنظیم کی ایگزیکٹو کونسل کے بند کمرے کے اجلاس کے لیے تیار کیے گئے نوٹ میں کہا گیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے امتناع کی تنظیم کے ڈائریکٹر جنرل احمد ازمچو اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون نے گذشتہ ہفتے شامی ہتھیاروں کی تلفی کا عمل تیز کرنے سےاتفاق کیا تھا۔
واضح رہے کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے طے شدہ ڈیل کے تحت 31 دسمبر تک بیرون ملک منتقل کیا جانا تھا لیکن اس عمل میں شام کی جانب سے تاخیر ہوئی ہے۔اب شام کے بیرون ملک منتقل کیے جانے والے خطرناک کیمیائی ہتھیاروں کو اپریل تک ٹھکانے لگایا جائے گا اور باقی ہتھیاروں کو جون تک تلف کیا جائے گا۔تاہم ان کم خطرناک ہتھیاروں کو تباہ کرنے کے لیے دوسرے ممالک کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔
ازمچو نے اپنے نوٹ میں لکھا ہے کہ ''شام نے انھیں بعض سکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا ہے لیکن اس نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کو جلد سے جلد ٹھکانے لگانا چاہتا ہے''۔تاہم انھوں نے شام کو درپیش سکیورٹی خدشات کی وضاحت نہیں کی۔
درایں اثناء امریکا کا ایک بحری جہاز ایم وی کیپ رے بحر متوسطہ کی جانب رواں دواں ہے۔اس جہاز پر شام کے سب سے خطرناک کیمیائی ہتھیار بیرون ملک منتقل کیے جائیں گے۔ان میں مسٹرڈ گیس اور اعصاب شکن سیرن گیس کی تیاری میں استعمال ہونے والا خام مواد بھی شامل ہے۔
اب تک شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی دوکھیپیں ہی ٹھکانے لگانے کے لیے بیرون ملک منتقل کی گئی ہیں۔ شام کی بندرگاہ اللاذقیہ سے ڈنمارک اور ناروے کے مال برادر بحری جہازوں کے ذریعے کیمیائی ہتھیاروں کو اٹلی کی بندرگاہ جیویا تورو پر لنگر اندز کیپ رے پر منتقل کیا جارہا ہے۔
کیپ رے پر دو ہائیڈرالسیس سسٹمز مشینیں نصب ہیں۔ان میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو پانی اور دوسرے کیمیکلز کے آمیزے کے ساتھ ملایا جائے گا اور پھر انھیں تلف کرنے کے لیے دوسرے ممالک یا اداروں کے حوالے کیا جائے گا۔
اوپی سی ڈبلیو کے مطابق چودہ تجارتی کمپنیوں نے کم خطرناک اور کم ترجیح والے ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کی پیش کش کی تھی۔ماہرین اس سے پہلے اس تشویش کا اظہار کرچکے ہیں کہ کیمیائی ہتھیاروں کو سمندر برد کرنے سے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور زہریلے مادے سطح آب پر آسکتے ہیں لیکن شامی ہتھیاروں کے بارے میں عالمی سطح پر تشویش کے باوجود کسی بھی ملک نے ان کو اپنی سرزمین پر ٹھکانے لگانے کی ہامی نہیں بھری تھی۔
شام اپنے ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے اقوام متحدہ اور اوپی سی ڈبلیو کے مشن سے تعاون کررہا ہے اور وہ پہلے بتا چکا ہے کہ اس کے پاس 1290 ٹن کیمیائی ہتھیار اور ان کے مشمولات ہیں۔ان کے علاوہ اس کے پاس ایک ہزار سے زیادہ نامکمل کیمیائی ہتھیار،گولے ،راکٹ اور مارٹر گولے وغیرہ ہیں۔
-
حلب میں اسدی فوج کے بیرل بم حملے، 94 شامی جاں بحق
برطانیہ، شام کے ڈیڑھ سو ٹن کیمیائی ہتھیار تلف کرنے پر آمادہ
مشرق وسطی -
شام میں پانچ مرتبہ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے: اقوام متحدہ
بان کی مون کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والوں کیخلاف پابندیوں کے حامی
بين الاقوامى -
امریکا شام کے کیمیائی ہتھیار سمندر برد کرے گا:او پی سی ڈبلیو
قریباً 1000ٹن کیمیائی مواد کو بحری جہاز کے ذریعے سمندر کی نذر کیا جائے گا
بين الاقوامى -
شام کے کیمیائی ہتھیار سمندر برد کرنے کی تجویز
بیشتر ممالک کا ایک ہزار ٹن کیمیائی ہتھیار اپنی سرزمین پر ٹھکانے لگانے سے انکار
مشرق وسطی -
کیمیائی ہتھیار تلفی، ناروے کی نیول فریگیٹ شام جائے گی
ایک مال بردار بحری جہاز بھی ہمراہ ہو گا: وزیر خارجہ ناروے
مشرق وسطی -
کیمیائِی ہتھیار شام سے باہر تلف کرنا بہتر ہے: او پی سی ڈبلیو
شام سے باہر تلفی پر امریکا اور روس کا بھی اتفاق ہے
مشرق وسطی