.

میراتھان دھماکہ، ملزم کو پھانسی دلوانے کی امریکی کوششیں

اٹارنی جنرل کیطرف سے پراسیکیوٹر کو سزائے موت کا مطالبہ کرنیکا اختیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں گزشتہ سال بوسٹن میراتھان کے دوران گھریلو ساختہ بموں سے مبینہ طور پر دھماکے کر کے تین افراد کو ہلاک اور 264 کو زخمی کرنے والے ملزم کو سزائے موت دلوانے کیلیے امریکی کوششیں جاری ہیں۔ یہ بات امریکا کے چیف پراسیکیوٹر نے بتائی ہے۔

امریکی اٹارنی جنرل کے مطابق انہوں نے پراسیکیوٹر کو اختیار دیا ہے کہ وہ بم دھماکوں کے ملزم کو سزائے موت دلوانے کیلیے کوشش کریں۔ اس ملزم پر نائن الیون کے بعد سے اب تک امریکی سرزمین پر سب سے بڑا دھماکہ کرنے کا الزام ہے۔

پراسیکیوٹر نے کہا '' کچھ بھی ہو دستیاب شہادتوں کی بنیاد پر انسانی جانیں لینے والے اس ملزم کو جیل میں ہی مرنا ہو گا۔''تاہم ابھی اس مقدمے کی تاریخ مقرر نہیں ہو سکی ہے۔ بوسٹن کے مئیر مارٹن والش نے کہا ہے کہ وہ دھماکے متاثرین کے ساتھ ہیں۔

پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ20 سالہ ملزم اور اس کے 26 سالہ بھائی نے 15 اپریل 2013 کو پریشر ککر میں بارود بھر کر دھماکے کیے تھے۔
ان دھماکوں کے تین دن بعد پولیس کی فائرنگ سے ایک ملزم مارا گیا جبکہ دوسرے کو ایک کشتی سے گرفتار کر لیا گیا ۔ مبینہ طور پر کشتی میں تحریر تھا '' ہم مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، تم ایک مسلمان کو نقصان پہنچا کر ہم سب مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے ہو۔''