سعودی عرب میں انسداد دہشت گردی قانون کا نفاذ
سکیورٹی فورسز کو مشتبہ افراد کو 6 ماہ تک زیر حراست رکھنے کا اختیار مل گیا
سعودی عرب میں انسداد دہشت گردی کا نیا قانون ہفتے کے روز سے نافذالعمل ہوگیا ہے۔سعودی عرب کی وزارتی کونسل نے دسمبر 2013ء میں اس قانون کی منظوری دی تھی۔
یہ قانون چالیس شقوں پر مشتمل ہے اور اس کا بڑا مقصد دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنا اور اس میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دینا ہے۔اس قانون میں دہشت گردی کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ مجرمانہ محرکات پر مبنی ایسا کوئی بھی فعل جس سے بالواسطہ یا بلا واسطہ امن عامہ،ریاست کی سلامتی اور استحکام میں خلل پڑے یا قومی سلامتی خطرات سے دوچار ہوجائے تو یہ دہشت گردی ہے۔
اس قانون کے تحت سکیورٹی فورسز کو کسی بھی مشتبہ شخص کو چھے ماہ تک زیرحراست رکھنے کا حق حاصل ہوگیا ہے اور ایسے افراد کی حراستی مدت میں مزید چھے ماہ تک توسیع کی جاسکتی ہے۔
قانون میں وزارت داخلہ کو دہشت گردی سے متعلق جرائم کے مرتکب مشتبہ افراد کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔
انسانی حقوق کے علمبردار کارکنان نے سعودی عرب میں دہشت گردی کے اس قانون کے نفاذ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ قانون اتنا وسیع تر ہے کہ اس کو جمہوری اصلاحات کے لیے آواز اٹھانے والوں کے خلاف بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
-
سعودی عرب:4 فرانسیسیوں کا قتل،القاعدہ کے دو ارکان کو سزائے موت
12 ملزموں کو جرم میں معاونت پر 3 سے 23 سال تک قید کی سزائیں
بين الاقوامى -
سعودی عرب کو انتہائی مطلوب القاعدہ جنگجو کی یمن میں ہلاکت
امریکی اور یمنی فورسز کی مشترکہ کارروائی کا ڈراپ سین
بين الاقوامى -
سعودی عرب:منشیات کی اسمگلنگ کے جُرم میں دو پاکستانیوں کے سرقلم
ایک مجرم نے پیٹ میں ہیروئن بھرکر سعودی عرب لے جانے کی کوشش کی تھی
بين الاقوامى -
سعودی عرب: خود کش حملے ملزمان کو عدالت سے سزا
دس سال پہلے حملے میں امریکی اور برطانوی شہری مارے گئے تھے
ایڈیٹر کی پسند -
پاکستانی قیادت سے مشرف کے معاملے پر بات نہیں ہوئی: سعود الفیصل
"سعودی عرب توانائی کے شعبے میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرے گا"
پاكستان -
امریکا اور ایران کی دوستی کیلیے دونوں کی کوشش چاہیے: روحانی
جنیوا ٹو: فیصلہ مشکل ہے، سعودی عرب اور قطر شام میں دہشتگردی کے حامی ہیں
مشرق وسطی