وزیراعلیٰ کجریوال لوک پال بل پیش کرنےمیں ناکامی پرمستعفی
عام آدمی پارٹی کے 49 روزہ اقتدار کا خاتمہ،اسمبلی میں کانگریس،بی جے پی کا ایکا
بھارت کی ریاست دہلی کے وزیراعلیٰ اروندکجری وال بدعنوانیوں کی بیخ کنی کے لیے مجوزہ لوک پال بل پیش کرنے میں ناکامی کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔اس طرح ان کی عام آدمی پارٹی کے انچاس روزہ مختصر اقتدار کا خاتمہ ہوگیا ہے۔
بدعنوانیوں کے خلاف مہم سے شہرت پانے والے اروند کجری وال 28 دسمبرکو کانگریس کی حمایت سے وزیراعلیٰ بنے تھے۔انھوں نے جمعہ کو ریاستی اسمبلی میں بالائی سطح پربدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے لوک پال بل متعارف کرانے کی کوشش کی لیکن کانگریس اور حزب اختلاف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان نے ان کی مخالفت کی۔
عام آدمی پارٹی کی جانب سے ریاستی اسمبلی میں لوک پال بل متعارف کرنے کی تحریک پیش کی گئی تو اسپیکر ایم ایس دھیر نے اس پر رائے شماری کرائی۔اسمبلی میں موجود بیالیس ارکان نے اس کی مخالفت کی اور صرف عام آدمی پارٹی کے ستائیس ارکان نے اس کو متعارف کرانےکے حق میں ووٹ دیا۔دہلی اسمبلی کے کل ارکان کی تعداد سترہے۔
اسمبلی میں اس شکست کے بعد کجری وال نے تقریر کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔انھوں نے کہا کہ ''یہ اسمبلی کا آخری اجلاس لگتا ہے۔ہمارے لیے حکومت چلانے سے زیادہ کرپشن کے خلاف جنگ اہمیت کی حامل ہے''۔
انھوں نے کانگریس اور بی جے پی کے ارکان کے نعروں کے شوروشغب میں کہا کہ ''ہماری حکومت رہے یا نہ رہے ،یہ ہمارے لیے اہم نہیں ہے،ہم یہاں ملک کو بچانے کے لیے آئے ہیں۔اگر ہمیں ملک کے لیے وزارت اعلیٰ کا عہدہ چھوڑنا پڑا تو ہم ایسا سو مرتبہ نہیں بلکہ ایک ہزار مرتبہ کریں گے''۔
کجری وال نے ریاستی اسمبلی میں کہا کہ وہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ کے دفتر میں استعفیٰ دینے کے لیے جارہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ نائب گورنر سے اسمبلی کو تحلیل کرنے اور نئے انتخابات کے انعقاد کے لیے کہیں گے۔
بھارتی میڈیا کی اطلاع کے مطابق اس کے بعد وہ عام آدمی پارٹی کے مرکزی دفتر کی جانب چلے گئے اور اب ان کے استعفیٰ پر حتمی فیصلہ ان کی جماعت ہی کرے گی۔واضح رہے کہ انھوں نے 9 فروری کو دھمکی دی تھی کہ اگر انسداد بدعنوانی بل کو منظور نہ کیا گیا تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے۔ان کی اتحادی کانگریس نے اس بل کو غیر آئینی قراردے کر اس کی مخالفت کی ہے۔
اروند کجری وال نے بھارت میں بڑے پیمانے پر بدعنوانیوں کے خلاف مہم چلا کر شہرت حاصل کی تھی اور ریاستی اسمبلی کے گذشتہ سال منعقدہ انتخابات میں ان کی عام آدمی پارٹی نے اٹھائیس نشستیں جیت کر مبصرین اور بھارت کی روایتی سیاسی جماعتوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔انھوں نے گذشتہ ماہ دہلی میں بھارتی پارلیمان کے سامنے دھرنا دیا تھا اور کانگریس کی مرکزی حکومت سے پولیس پر کنٹرول کے لیے زیادہ اختیارات دینے کا مطالبہ کیا تھا۔
انھوں نے اپنے مختصر دور حکومت میں دہلی کی سابق حکومت کی بدعنوانیوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز بھی کیا تھا اور بھارت کے بالائی طبقات میں بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے غیر روایتی طریق کار اختیار کیا تھا جس کو ''اسٹیس کو'' کی حامی قوتوں نے پسند نہیں کیا اور یہی وجہ ہے کہ ریاستی اسمبلی میں ان کی اتحادی کانگریس اور مخالف بی جے پی کے اراکین نے انسداد بدعنوانی بل کی مخالفت میں ایکا کر لیا اور اس بل کو منظور تو دور کی بات ہے،متعارف کرانے کی بھی مخالفت کی ہے۔
-
بھارت: پولیس شاہی کیخلاف وزیر اعلی کا تاریخی دھرنا ختم
مرکزی حکومت نے دو پولیس افسروں کو رخصت پر گھر بھیج دیا
بين الاقوامى -
بھارت: امریکی سفارتخانے کی سیکیورٹی، عملے کو حاصل مراعات ختم
"خاتون بھارتی سفارتکار کھوبڑا گاڑے کی برہنہ تلاشی لی گئی"
بين الاقوامى -
امریکا میں بھارت کے ڈپٹی قونصل جنرل کی گرفتاری
گھریلو ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کو سفارتی استثنا حاصل نہیں: آنند آہوجا
بين الاقوامى -
ایشیا میں سب سے زیادہ افراد بھارت میں غلامی کے شکار ہیں: فری واک
"چین میں 29 جبکہ پاکستان میں 21 لاکھ افراد غلام ہیں"
بين الاقوامى -
امریکی سرمایہ کار بھارت کی کاروباری ہیرا پھیریوں سے دلبرداشتہ
منموہن سنگھ کی آمد پر مخالفانہ اشتہاری مہم، اوباما بھی بات کرینگے
بين الاقوامى -
نریندرا مودی بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نامزد
بھارت میں 2014ء کے عام انتخابات میں پارٹی کو کامیابی دلانے کا عزم
بين الاقوامى