.

کویت: غیر ملکیوں کی تعداد کم کرنے کے مطالبے میں شدت

ہر سال 280000 غیر ملکی نکالے جائیں، رکن پارلیمنٹ خلیل عبداللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کویت میں موجود غیر ملکی کارکنوں کی تعداد میں بتدریج کمی کرنے کے کویتی قانون سازوں کے مطالبات میں شدت آگئی ہے ، تاکہ کویتی آبادی کا تناسب برقرار رکھا جا سکے اور اہل کویت کو روزگا کیلیے زیادہ مواقع دستیاب رہیں۔

یہ مطالبہ کویتی پارلیمنٹ کے رکن خلیل عبداللہ نے اس صورتحال میں کیا ہے کہ غیر ملکی کویت کی اپنی آبادی پر اکثریت حاصل کر چکے ہیں اور ان کے مقابلے میں کویتی آبادی گھٹ کر رہ گئی ہے۔ خلیل عبداللہ نے یہ مطالبہ مقامی میڈیا کے ذریعے کیا ہے۔

واضح رہے کویت کی مجموعی آبادی چار ملین ہے ، جبکہ اس میں کویتی آبادی کا تناسب صرف اکتیس اعشاریہ تین فیصد ہے۔ کویتی رکن پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ ہر سال کم از کم دو لاکھ اسی ہزار غیر ملکیوں کو ان کے ملکوں میں واپس بھیجنا چاہیے اور بتدریج قابل لحاظ کمی کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے '' آبادی کی صورتحال کو متناسب رکھنے کیلیے ایسا کرنا بہت ضروری ہے۔''

انہوں نے مزید کہا مقامی اور غیر ملکی آبادی کا بگڑا ہوا تناسب سماجی ، معاشی اور خدمات کے شعبوں کے حوالے سے ایک خطرناک علا مت بن کر سامنے آرہا ہے۔

رکن پارلیمنٹ خلیل عبداللہ نے کہا '' ملک کی اپنی آبادی اور غیر ملکی آبادی کو کم از کم برابر ہونا چاہیے اور اس سطح پر آبادی کا تناسب لانے کیلیے غیر ملکیوں کی بڑی تعداد کو نکالنا ضروری ہوگا، تاہم انہوں نے کہا یہ عمل بتدریج ہو سکتا ہے اور ان غیر ملیکوں کو اس اقدام کی زد میں نہ لایا جائے جنہوں نے کویت کی تعمیر و ترقی میں سالہا سال سے خدمات انجام دی ہیں۔''

اس حوالے سے خلیل عبداللہ اکیلے نہیں ہیں جنہوں نے یہ آواز بلند کی ہے بلکہ ایک رکن پارلیمنٹ عبداللہ التمیمی نے ماہ جنوری میں مطالبہ کیا تھا کہ کویت میں موجود غیر ملکیوں کی تعداد میں اگلے پانچ برسوں کے دوران کم از کم تیرہ لاکھ کی کمی کی جائے۔''

عبداللہ التمیمی نے اس مطابے کو کویت کی ایک فوری ضرورت کے طور پر پیش کیا تھا۔ واضح رہے کویت میں غیر ملکیوں کی بڑی تعداد ایشین ہے جن میں عرب ملکوں سے تعلق رکھنے والے زیادہ ہیں۔