امریکا میں شامی سفارت خانہ اور دو قونصل خانے بند
شامی سفارت کاروں اور عملے کو ملک سے چلے جانے کا حکم
امریکا نے واشنگٹن میں شامی سفارت خانہ اور دوسرے شہروں مشی گن اور ٹیکساس میں قائم قونصل خانے بند کردیے ہیں اور شامی سفارت کاروں اور سفارتی عملے کو ملک سے چلے جانے کا حکم دیا ہے۔
امریکا کے خصوصی ایلچی برائے شام ڈینیل روبن اسٹین نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم اس معاملے میں پُرعزم ہیں اور یہ بات ہمارے لیے بالکل ناقابل قبول ہے کہ بشار رجیم کے مقرر کردہ افراد امریکا میں سفارتی اور قونصلر سرگرمیاں جاری رکھیں''۔
بیان کے مطابق شامی سفارت خانے اور قونصل خانوں میں تعینات غیر امریکی یا مستقل رہائش نہ رکھنے والے افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ فوراً امریکا سے واپس چلے جائیں۔واضح رہے کہ امریکا نے 6 مارچ کو اقوام متحدہ میں متعین شام کے مستقل مندوب بشارالجعفری کی نقل وحرکت محدود کردی تھی اور وہ نیویارک سے پچیس مربع کلومیٹر کے علاقے سے باہر نہیں جاسکتے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ نے شامی سفیر بشارالجعفری اور ان کی قیادت میں سفارتی عملے پر نیویارک میں واقع اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز سے پچیس کلومیٹر کی حدود سے باہر جانے پر پابندی لگائی ہے۔امریکا نے اس سے پہلے ایران اور شمالی کوریا کے سفیروں پر بھی اسی طرح کی پابندیاں عاید کررکھی ہیں۔
-
شام کیخلاف امریکا کی سائبر ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی تیاری
صدر اوباما کے سائبر آپریشنز سے متعلق خفیہ حکم نامے پر دستخط
بين الاقوامى -
امریکا شام پر دباو ڈالنے کے مزید طریقوں پر غور کر رہا ہے: اوباما
امریکی صدر کی اردن کے شاہ عبداللہ سے بات چیت
مشرق وسطی -
امریکا نے شمالی شام کے لیے غیر مہلک امداد روک لی
اسلامی جنگجوؤں کے حزب اختلاف کی فورسز کے گوداموں پر قبضے کے بعد فیصلہ
مشرق وسطی -
امریکا کی شام اور ایران پرسعودی غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش
عرب گروپ کا سعودی عرب کو سلامتی کونسل کی نشست سنبھالنے پراصرار
بين الاقوامى -
اقوام متحدہ سے شام کی خودمختاری کے احترام کا مطالبہ
غیرملکی پشت پناہی سے جاری دہشت گردی کے خاتمے پر توجہ دی جائے:وزارت خارجہ
مشرق وسطی