اسرائیل: مسلم آثار منہدم، 186 یہودی گھروں کی منظوری

عباسی دور کا قبرستان اکھاڑ دیا، یہودی ثقافتی مرکز قائم کیا جائیگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں اسلامی تاریخ اورمسلم تمدن کے نمائندہ آثار کو منہدم کر دیا ہے۔ ان آثارکی اسرائیلی محکمے کے ہاتھوں تباہی فلسطین کے پڑوس میں سلوان میں ہوئی ہے۔ مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم فلسطینی علاقے کا حصہ ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس حقیقت کو 1967 سے تسلیم کیا جاتا ہے

اس سلسلے میں اقصٰی فاونڈیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ان آثار کے حوالے کھدائی کا کام آخری مرحلے میں ہے۔ یہ جگہ وادی سلوان میں پرانے وال سٹی سے صرف بیس میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس کھدائی سے مسلمانوں کے عباسی دور سے پہلے کا ایک قبرستان اور اس کے آثار بھی متاثر ہوئے ہیں.

اس سلسلے میں ڈیوڈ فاونڈیشن جسے عمومی طور ایلاد کے نام سے جانا جاتا ہے، ان کھدائیوں کے لیے فنڈنگ کر رہی ہے۔ اس فنڈنگ کا بنیادی مقصد سات منزلہ یہودی ثقافتی مرکز کا قیام ہے۔ اسرائیلی منصوبہ اسی علاقے میں بائبل پارک میں تجویز کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اسرائیل مسجد اقصٰی کے آس پاس زیر زمین کھدائیاں کر چکا ہے۔ اب اس سے اگلے قدم کی تیاری ہے۔ واضح رہے مسلمانوں قبلہ اول اس کھدائی کے مرکز سے محض ایک سو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ ڈیڑھ ایکڑ پر پھیلی اس کھودے جانے والی جگہ کو زیر زمین جانب بعض جگہوں پر بیس میٹر تک کھودا جا رہا ہے۔ دریں اثنا اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں مزید 186 گھروں کی تعمیر کی بھی منظوری دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں