امریکا اور روس کی ایک دوسرے کے خلاف نئی پابندیاں
امریکا کی 20 روسی شخصیات اور روس کی 9 امریکی شخصیات پر قدغنیں عاید
امریکی صدر براک اوباما نے روس کے خلاف کریمیا میں جاری بحران کی بنا پر عاید کی جانے والی پابندیوں کو وسعت دے دی ہے اور مزید بیس روسی شخصیات اور ان کے زیراستعمال ایک بنک پر پابندیاں عاید کردی ہیں جبکہ روس نے بھی اس کے ردعمل میں بعض امریکی شخصیات کے ملک میں داخلے پر پابندی عاید کردی ہے۔۔
امریکی صدر نے جمعرات کو ایک انتظامی حکم پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت امریکا روسی معیشت کےاہم شعبوں پر قدغنیں عاید کرسکے گا۔انھوں نے یوکرین میں فوجی مداخلت کے الزام میں روس کے خلاف مزید اقدامات کی بھِی دھمکی دی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ روسی حکومت کے اختیار کردہ انتخاب کے نتیجے میں یہ پابندیاں عاید کی گئی ہیں لیکن روسی حکومت کے اختیار کردہ اس راستے کو عالمی برادری نے مسترد کردیا ہے۔
امریکا نے اس سے پہلے یوکرین میں جاری تنازعے میں ملوث ہونے کے الزام میں گیارہ روسی شخصیات پر پابندیاں عاید کی تھیں جن کے تحت ان کے امریکا میں اثاثے منجمد کر لیے گئے تھے اور امریکا میں داخل پر پابندی عاید کی گئی تھی۔
روس نے تین ہفتے قبل اپنی فوجیں کریمیا میں داخل کی تھیں اور وہاں گذشتہ اتوار کو ریفرینڈم کے انعقاد کے بعد اس کو ضم کر لیا ہے لیکن امریکا نے کریمیا میں روسی مداخلت کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قراردیا ہے اور اس کے روس کے ساتھ الحاق کو تسلیم نہیں کیا۔
روس نے امریکا کی پابندیوں کے ردعمل میں نو امریکی شخصیات کو ناپسندیدہ قرار دے دیا ہے اور ان پر ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔روسی قدغنوں کی زد میں آنے والی امریکی شخصیات میں سینیٹ میں قائد ایوان ہیری ریڈ،ایوان نمائندگان کے اسپیکر جان بوئنر،سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چئیرمین رابرٹ مینیڈیز،تین سینیٹرز جان مکین ،میری لانڈریو اور ڈینیل کوٹس اور صدر براک اوباما کے تین مشیران کیرولین اٹکنسن ،ڈینیل فیفر اور بنجمن رہوڈز شامل ہیں۔
روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس بات میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ ہر مخالفانہ حملے کا مناسب انداز میں جواب دیا جائَے گا''۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان امریکی شخصیات پر سفری پابندیاں امریکا کی جانب سے سات حکومتی عہدے داروں پر اقتصادی ومالیاتی قدغنوں کے ردعمل میں عاید کی گئی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''ہم بار بار خبردار کررہے ہیں کہ پابندیاں دُہری شاہراہ ہیں اور بوم رینگ کی طرح یہ امریکا کو نشانہ بنائیں گی''۔روسی وزارت خارجہ نے بیان میں مزید کہا ہے کہ ''کوئی شاید اس فیصلے کو تسلیم نہ کرے لیکن ہم ایک حقیقت کی بات کررہے ہیں اور اس کو ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے''۔
روس کا موقف ہے کہ یوکرین کے جزیرہ نما علاقے کریمیا میں عالمی قانون کے مطابق ریفرینڈم کا انعقاد کیا گیا تھا اور وہاں کے عوام نے روس کے ساتھ الحاق کے حق میں ووٹ دیا تھا لیکن امریکا اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔امریکا،مغرب اور یوکرین نے اس ریفرینڈم کو غیر قانونی قراردے کر مسترد کردیا تھا۔
-
کریمیا روس میں شامل، کریملن جی ایٹ سے معطل
یوکرین اور مغرب نے کریمیا کی روس میں شمولیت کو مسترد کردیا
بين الاقوامى -
ولادی میر پوتین نے کریمیا کو خود مختار ریاست تسلیم کر لیا
روسی صدر ولادی میر پوتین نے کریمیا میں منعقدہ ریفرینڈم کے نتائج سامنے آنے کے بعد ...
بين الاقوامى -
کریمیا اور روس کی 32 شخصیات پرسفری پابندیاں، اثاثے منجمد
یورپی یونین، امریکا نے کریمیا میں ریفرینڈم کے ایک روز بعد روسیوں پر قدغنیں لگا دیں
بين الاقوامى -
اوباما کیطرف سے روسی صدر کو پابندیوں کا انتباہ
کریمیا ریفرنڈم یوکرینی دستور کے منافی اور ناقابل قبول ہے
بين الاقوامى -
کریمیا ریفرینڈم: 93 فی صد کا روس میں شمولیت کے حق میں ووٹ
کریمیا میں اتوار کو منعقدہ ریفرینڈم میں ووٹروں کی اکثریت نے اس جزیرہ نما علاقے کی ...
بين الاقوامى -
جنوب مشرقی یوکرین پر چڑھائی کا کوئی منصوبہ نہیں:روس
کریمیا ریفرینڈم کے بعد ایک سال میں روس میں شامل ہوجائے گا:وزیراعظم
بين الاقوامى