جرمن سفارت کاروں پر حملہ، دو مشتبہ سعودی گرفتار
سعودی عرب میں حکام نے جنوری میں دو جرمن سفارت کاروں پر حملے کے الزام میں دو اور مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں 13 جنوری کو جرمن سفارت کاروں کی دو کاروں پر مسلح افراد نے فائرنگ کردی تھی۔تاہم دونوں سفارت کار اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔اس صوبے میں ملک کی شیعہ اقلیت اکثریت میں آباد ہے۔
سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ایک ملزم احمد بن حسین العرابی کو فروری کے آغاز میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس نے دوران تفتیش حملے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا تھا اور اپنے دوسرے ساتھیوں کے نام بھی بتا دیے تھے۔ان میں سے ایک کو بعد میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔
ترجمان نے مشرقی صوبے میں تشدد کے الزام میں مطلوب تین دیگر افراد سے بھی کہا ہے کہ وہ خود کو حکام کے حوالے کردیں۔ان تینوں کے نام سعودی عرب کو مطلوب تئیس افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ترجمان نے دو اور سعودیوں کو بھی خود کو حکام کے حوالے کرنے کے لیے کہا ہے مگر ان کے نام اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔
یادرہے کہ مشرقی صوبے کے مکین اہل تشیع نے مارچ 2011ء میں ریاست مخالف احتجاجی مظاہروں کا آغاز کیا تھا۔اس دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں دس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔جولائی 2012ء میں ان مظاہروں کی قیادت کرنے والے شیخ نمر النمر کو گرفتار کر لیا گیا تھا جس کے بعد احتجاجی جلسے جلوسوں میں کمی واقع ہوئی تھی۔
تاہم اسی سال اگست میں سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی جانب سے شیعہ سنی بین العقیدہ ڈائیلاگ مرکز کے قیام کے اعلان کے بعد اس فرقہ وارانہ کشیدگی میں مزید کمی واقع ہوئی تھی اور قطیف سے تعلق رکھنے والی سات شیعہ شخصیات نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا تھا۔