سعودی عرب: شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز آیندہ ولی عہد ہوں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی دارالحکومت ریاض میں جمعرات کو شاہی دیوان کی جانب سے جاری کردہ ایک فرمان میں کہا گیا ہے کہ شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز ولی عہد کا عہدہ خالی ہونے کی صورت میں مملکت کے آیندہ ولی عہد ہوں گے۔

سعودی عرب کے سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے بیان کے مطابق شہزادہ مقرن کرسی خالی ہونے کی صورت میں ملک کے بادشاہ بھی بن سکتے ہیں۔

العربیہ نیوز چینل سے نشر ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ''شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے شہزادہ مقرن کو بادشاہ اور ولی عہد کے عہدے خالی ہونے کی صورت میں سعودی مملکت کا بادشاہ مقرر کردیا ہے''۔

سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی عمر اس وقت نوے سال سے زیادہ اور ولی عہد شہزادہ سلمان کی عمر اٹھہتر برس ہے۔شہزادہ مقرن 1945ء میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی عمر قریباً ستر سال ہے۔

انھیں گذشتہ سال سعودی عرب کا نائب وزیراعظم مقرر کیا گیا تھا۔اس سے قبل وہ سعودی عرب کے سراغرساں ادارے کے سربراہ تھے۔وہ اکتوبر 2005ء سے جولائی 2012ء تک اس منصب پر فائز رہے تھے۔شاہ عبداللہ نے 20 جولائی 2012ء ان کی جگہ شہزادہ بندر بن سلطان انٹیلی جنس چیف مقرر کیا تھا اور شہزادہ مقرن کو اپنا مشیر اور خصوصی ایلچی مقرر کردیا تھا لیکن بعد میں انھیں نائب وزیراعظم کے منصب پر فائز کردیا گیا تھا۔

سعودی نائب وزیراعظم کو روایتی طور پر ولی عہد کا جانشین سمجھا جاتا ہے۔یوں اگر ولی عہد کا منصب خالی ہوتا ہے تو شہزادہ مقرن ولی عہد اور بادشاہت کی کرسی خالی ہونے کی صورت میں سعودی مملکت کے بادشاہ بن جائیں گے۔سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے اپنی علالت کے پیش نظر انھیں غالباً یہ منصب سونپا ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سعودی فرمانروا کے نئے شاہی فرمان کو سعودی عرب میں استحکام کی علامت قراردیا ہے جہاں کسی اتھل پتھل کے بغیر حکمراں اور ولی عہد کی جانشینی کا معاملہ طے کیاجارہا ہے۔واضح رہے کہ خطے میں سعودی عرب ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو عرب بہاریہ تحریک کے اثرات سے محفوظ رہے ہیں اور انھیں اپنی داخلی استحکام کی بدولت اب تک کسی انقلابی تحریک کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں