.

بھارتی ریاست چھتیس گڑھ ،انتخابی عملے سمیت 12 ہلاک

ہلاک ہونے والوں میں سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت میں جاری انتخابی عمل کے دوران ہفتے کا دن خونی ثابت ہوا۔ اس روز انتخابی عملے اور سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 12 افراد کو ماونواز باغیوں نے ہلاک کر دیا ہے۔ یہ اندوہناک واقعہ بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ میں پیش آیا ہے۔ ماو باغی پانچ ہفتوں پر پھیلے انتخابی عمل کو سبو تاژ کرنے کے درپے ہیں۔

واضح رہے بھارت میں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر سات سے زائد ریاستوں میں آزادی کی تحریکیں جاری ہیں۔ ان ریاستوں میں باغی بھارت کے ساتھ رہنے پر تیار نہیں ہیں۔ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل اے این اپادھیا کے مطابق باغیوں نے بارودی سرنگوں سے دھماکہ کیا ہے۔

اس واقعے میں انتخابی عملے کے پانچ افراد کے علاوہ انہیں لے جانے والی گاڑیوں کے ڈرائیور بھی مارے گئے ہیں۔ یہ لوگ کروتو سے بیجا پور جا رہے تھے کہ ان کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے سے چار افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اسی طرح کے ایک اور دھماکے میں باغیوں نے ایک دور دراز کے جنگل میں پانچ پیرا ملٹری اہلکاروں کو ہلاک کر دیا ہے۔ باغیوں نے ووٹروں کو الیکشن کے بائیکاٹ کرنے کیلیے بھی کہا ہے۔ یہ باغی 1960 کی دہائی سے مزاحمت کر رہے ہیں تاکہ پسماندہ طبقات کو روزگار اور قومی وسائل میں سے پورا حق دلوا سکیں۔

وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ان واقعات کو ملکی استحکام کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ چھتیس گڑھ میں ایک ماہ قبل بھی باغیوں نے 16 سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا ۔ جبکہ صوبہ بہار میں الیکشن سے ایک دن پہلے دو افراد ہلاک کیے گئے تھے۔