.

لیبیا:عبوری وزیراعظم عبداللہ الثنی مستعفی

طرابلس شہر سے ہوائی اڈے کی جانب جانے والی شاہراہ پر حملے کے بعد فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے عبوری وزیراعظم عبداللہ الثنی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔اتوار کو انھوں نے اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ روز ان پر اور ان کے خاندان پر مسلح حملہ کیا گیا تھا جس کے بعد انھوں نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے اس حملے کی مزید تفصیل تو نہیں بتائِی۔البتہ اتنا کہا ہے کہ اس سے دارالحکومت طرابلس کے ایک آباد علاقے کے مکین دہشت زدہ ہوگئے تھے اور ان میں سے بعض کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہوگئی تھیں۔

عبوری وزیراعظم کے ایک قریبی مشیر نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ یہ واقعہ طرابلس شہر سے ہوائی اڈے کی جانب جانے والی شاہراہ پر واقع علاقے میں پیش آیا تھا اور اس میں کوئی شخص زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔

عبداللہ الثنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اس ''باغیانہ حملے'' کے بعد عہدے پر برقرار نہیں رہیں گے البتہ وہ نئے وزیراعظم کے تقرر تک کام کرتے رہیں گے''۔

لیبیا کی منتخب قومی اسمبلی جنرل نیشنل کانگریس کے ترجمان حمیدان نے کہا ہے کہ عبداللہ الثنی نئے عام انتخابات کے انعقاد تک عبوری وزیراعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہیں گے۔تاہم ابھِی نئی پارلیمان کے انتخابات کے لیے تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

مستعفی وزیراعظم کے پیش رو علی زیدان کو جنرل نیشنل کانگریس نے ملک میں امن وامان کی ابتر صورت حال پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد عدم اعتماد کی قرارداد کے ذریعے برطرف کردیا تھا۔وہ اپنی برطرفی کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر یورپ چلے گئے ہیں۔انھیں بھی گذشتہ سال مسلح افراد نے مختصر وقت کے لیے اغوا کر لیا تھا۔

برطرف وزیراعظم پر ارکان پارلیمان نے یہ الزام عاید کیا تھا کہ وہ سابق مطلق العنان صدر مقتول کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے اڑھائی سال بعد بھی ملک میں قیام امن میں ناکام رہے تھے۔ان کی حکومت معمر قذافی کی حکومت کے خلاف 2011ء میں مسلح بغاوت میں پیش پیش جنگجوؤں کے خلاف قابو پانے میں ناکام رہی تھی۔یہ شتر بے مہار جنگجو گروپ ہر جگہ حکومت کی عمل داری کو چیلنج کررہے ہیں اور انھوں نے اپنے اپنے خود مختار علاقے قائم کررکھے ہیں۔

ساٹھ سالہ عبداللہ الثنی لیبی فوج کے ریٹائرڈ کرنل ہیں۔انھیں جنرل نیشنل کانگریس نے چند ہفتے کی عبوری مدت کے لیے وزیراعظم منتخب کیا تھا لیکن گذشتہ ہفتے ان کی مدت میں اس شرط پر توسیع کی گئی تھی کہ وہ جلد عبوری کابینہ تشکیل دیں گے۔

اب اگر ان کے استعفے کو منظور کر لیا جاتا ہے تو جی این سی ایک نئے وزیراعظم کو نامزد کرنے کی پابندی ہوگی۔تاہم لیبیا کی یہ منتخب اسمبلی ملک میں جمہوریت کے قیام کے لیے کوئی ٹھوس پیش رفت کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس کے اسلامی اور قوم پرست جماعتوں کے ارکان کے درمیان مختلف امور پر اختلافات طے نہیں ہوسکے ہیں۔