.

انٹرپول کو دو آسٹروی جہادی لڑکیوں کی تلاش

بوسنیائی نژاد والدین دونوں لڑکیوں کو ڈھونڈنے بیرون ملک روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس میں قائم بین الاقوامی پولیس ایجنسی (انٹرپول) آسٹریا کی دو کم سن جہادی لڑکیوں کی تلاش میں ہے۔ان کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسلامی باغیوں کے ساتھ مل کر جہاد میں شریک ہونے کے لیے شام چلی گئی ہیں۔

ڈیلی میل میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایک لڑکی کا نام ثمرہ کیسنووچ ہے۔اس کی عمر سولہ سال ہے اور دوسری کانام سبینہ سلیمووچ ہے اور اس کی عمر پندرہ سال ہے۔یہ دونوں آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں واقع اپنے گھروں سے دس اپریل کو غائب ہوگئی تھیں۔

ان لڑکیوں کے والدین کو سماجی روابط کی ویب سائٹس پر ان کی پوسٹ کی گئی ایسی تحریریں ملی ہیں جن سے انھوں نے اپنے طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وہ جہاد کے لیے شام چلی گئِی ہیں۔تاہم ان کے والدین کا کہنا ہے کہ یہ پیغامات ان کے لکھے ہوئے نہیں ہیں۔ان کے والدین بوسنیائی مہاجر ہیں جو1990ء کے عشرے میں سابق یوگو سلاویہ کی ریاست میں نسلی بنیاد پر خانہ جنگی چھڑنے کے بعد آسٹریا اٹھ آئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ ان دونوں لڑکیوں نے حال میں ویانا کی ایک مسجد میں جانا شروع کردیا تھا۔اس مسجد کے راسخ العقیدہ مبلغ کا نام ابو تجمہ بتایا گیا ہے۔اب بیرون ملک جانے کے بعد ان لڑکیوں کا اپنے والدین سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور ان کے والد صاحبان ان کی تلاش میں بیرون ملک مارے مارے پھر رہے ہیں۔

فیس بُک پر ان لڑکیوں کے صفحات پر ایسی تصاویر پوسٹ کی گئی ہیں جن میں وہ اے کے 47 کلاشنکوف رائفل کے ساتھ نظر آرہی ہیں۔ایک پوسٹ میں انھوں نے جہادی بننے کے لیے شادی کرنے کا اعلان کیا ہے اور دوسری پوسٹ میں لکھا ہے کہ ''موت ان کا حقیقی مقصد ہے''۔

آسٹروی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں لڑکیاں ممکنہ طور پر شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار جہادیوں کے کیمپوں میں پہنچ چکی ہیں اور وہ باغیوں کے ساتھ شادی بھی کرچکی ہیں۔