افغان خاتون پر تشدد:سعودی مذہبی پولیس کے تین افسر فارغ

مکہ مکرمہ کے پارک میں نماز کی یاددہانی کے دوران خاتون کا سر پھاڑنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی مذہبی پولیس امر بالمعروف و نہی عن المنکر کمیشن کے تین افسروں کو مکہ مکرمہ کے ایک پارک میں ایک افغان خاتون پر تشدد کے الزام میں عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔

گذشتہ جمعہ کو سعودی روزنامے الوطن نے اطلاع دی تھی کہ مذہبی پولیس مکہ مکرمہ کے پارک میں ایک ستائیس سالہ افغان عورت کو سر میں ضرب لگانے کے الزام میں اپنے ایک افسر کے خلاف تحقیقات کررہی ہے۔یہ واقعہ نماز مغرب سے قبل پیش آیا تھا اور اس وقت مذکورہ افسر علاقے کا دورہ کررہا تھا۔

اخبار نے لکھا کہ ''اس افسر نے خاتون پر تشدد کے الزام کی تردید کی تھی اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس نے تو عورت کو زبانی طور پر نماز ادا کرنے کی جانب متوجہ کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ عورت سواری سے گر پڑی تھی جس کی وجہ سے اس کے سر میں چوٹ آگئی تھی''۔

لیکن مذہبی پولیس نے منگل کو اپنی تحقیقات کے بعد اس پولیس افسر کو واقعے کا ذمے دار ٹھہرایا ہے۔اس کو فیلڈ میں ڈیوٹی سے ہٹا دیا ہے اور اس کا تبادلہ کرکے شمالی علاقے الجوف کی جانب بھیج دیا ہے جہاں وہ انتظامی ذمے داریاں نبھائے گا۔

واقعہ کے وقت موقع پر موجود اس افسر کے ایک ساتھی کو بھی فیلڈ ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔اس پر الزام ہے کہ اس نے واقعہ کی حکام بالا کو بروقت اطلاع نہیں دی تھی اور اس کو اب تبدیل کرکے طائف کے علاقے میں بھیج دیا گیا ہے۔

مذہبی پولیس کی مکہ شاخ کے سربراہ کو بھی فرائض سے غفلت برتنے پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔اس نے مبینہ طور پر واقعہ رونما ہونے کے بعد مذکورہ افسر کو مدد کی پیش کش کی تھی۔اس افسر کو ساحلی شہر جدہ بھیج دیا گیا ہے جہاں وہ انتظامی فرائض انجام دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں