سعودی مذہبی پولیس کے اہلکار کا لڑکی پر مبینہ تشدد
امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سربراہ نے 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب کر لی
سعودی عرب کی مذہبی پولیس امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سربراہ ڈاکٹر عبداللطیف آل الشیخ نے مکہ مکرمہ میں پولیس اہلکار کے مبینہ حملے میں ایک لڑکی کے زخمی ہونے کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے چوبیس گھنٹے میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ روز سوشل میڈیا کے ذریعے یہ خبر سامنے آئی تھی کی کہ مکہ کے ایک پبلک پارک میں مذہبی پولیس کی وردی میں ملبوس ایک شخص نے ایک ایشیائی لڑکی پر تشدد کیا جس کے نتیجے میں اس کے سر میں گہرے زخم آئے اور خون بہنا شروع ہو گیا تھا۔ خبر کے سامنے آتے ہی مذہبی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر آل الشیخ نے اس پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام کو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر واقعے کی تحقیقات مکمل کرکے ملزم کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا حکم دیا۔
اسی طرح کے ایک دوسرے واقعے میں بتایا گیا کہ العسیر کے مقام پر مذہبی پولیس کی وردی میں ملبوس ایک شخص طالبات کی ایک بس میں گھس گیا جس سے طالبات سخت خوف زدہ ہو گئیں۔ آل الشیخ نے طالبات کو ہراساں کرنے کے واقعے کی بھی چوبیس گھنٹے میں انکوائری مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔
-
سعودی مذہبی پولیس اب سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کرے گی؟
سعودی عرب کے ایک کالم نگار نے ملک کی مذہبی پولیس یعنی محکمہ امر بالمعروف و نہی عن ...
ایڈیٹر کی پسند -
سعودی مذہبی پولیس پر بدعنوانیوں کے الزامات مسترد
شیخ عبداللطیف آل شیخ کا فراڈ کا ایک بھی کیس سامنے آنے پر عہدہ چھوڑنے کا اعلان
ایڈیٹر کی پسند -
سعودی عرب میں نمازوں کے اوقات میں نرمی سے متعلق بیان کی پذیرائی
سعودی مذہبی پولیس کے سربراہ کا العربیہ سے انٹرویو عالمی میڈیا کی سرخی بن گیا
ایڈیٹر کی پسند