.

روس نے کریمیا کے تاتاری رہ نما کی واپسی پر پابندی لگادی

تاتاری مجلس کے ڈپٹی چئیرمین پر بھی یوکرین سے آبائی علاقے میں لوٹنے پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے یوکرین سے الگ ہونے والے جزیرہ نما خود مختارعلاقے کریمیا کی تاتار کمیونٹی کی اسمبلی کے ڈپٹی چئیرمین اور ایک سابق رہ نما پر پانچ سال کے لیے واپس آنے پر پابندی عاید کردی ہے۔

کریمیا کے تاتاری عوام کی مجلس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یوکرینی حکومت کے رکن اور مجلس کے سابق چئیرمین مصطفیٰ زیملیف کو کریمیا میں ایک ہفتہ گزارنے کے بعد یوکرین واپس جاتے ہوئے ایک نوٹس تھمایا گیا ہے جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ اب ان پر جزیرہ نما علاقے میں پانچ سال تک داخلے پر پابندی ہوگی''۔

اس نوٹس کا عنوان ''روسی فیڈریشن میں داخلے کی عدم اجازت'' ہے۔اس پر کسی کے دستخط نہیں ہیں اور نہ یہ کسی ادارے کے لیٹر ہیڈ پرلکھا گیا ہے۔البتہ اس کاغذ کے ٹکڑے میں کہا گیا ہے کہ زیملیف کے کریمیا میں داخلے پر پابندی لگادی گئی ہے۔بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ اسمبلی کے موجودہ ڈپٹی چئیرمین اسلان عمر کریملی کو بھی اسی طرح کی پابندی کا نوٹس دیا گیا ہے۔

روس کی وفاقی مائیگریشن سروس نے اس خبر پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے اور وزارت خارجہ نے بھی اس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔تاتاری مجلس نے بھی یہ واضح نہیں کیا کہ اس کے رہ نما کو کس نے یہ نوٹس جاری کیا ہے۔

البتہ مجلس کی جانب سے جاری کردہ بیان میں مصطفیٰ زیملیف کے حوالے سے کہا گیا ہے:''اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں کس قسم کی مہذب ریاست کا سامنا ہے''۔انھوں نے گذشتہ ماہ روسی صدر ولادی میر پوتین سے گفتگو میں کہا تھا کہ کریمیا کو روسی وفاق میں ضم کرنے کا اقدام عالمی قانون کی خلاف ورزی ہوگا۔

واضح رہے کہ روس نے حال ہی میں کریمیا میں استصواب رائے کے بعد اس کو ضم کر لیا ہے لیکن ابھی تک اس کی سرحدوں کا تعین نہیں کیا گیا جبکہ دوسری جانب یوکرین عالمی برادری کی حمایت سے اس کو اپنا علاقہ قراردے رہا ہے۔یوکرین کے سابق روس نواز صدر کی عوامی تحریک کے نتیجے میں رخصتی کے بعد سے روس نواز علاحدگی پسند ہی جزیرہ نما کریمیا کی سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہیں۔

ترک زبان بولنے والا تاتار صدیوں سے بحر اسود کے کنارے واقع جزیرہ نما کریمیا میں آباد ہیں اور وہ اس علاقے کی کل بیس لاکھ آبادی کا قریباً بارہ فی صد ہیں۔انھیں دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنوں کی مبینہ حمایت کے شُبے میں وسط ایشیا کی جانب بے دخل کردیا گیا تھا لیکن 1980ء کے عشرے کے آخر اور 1991ء میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد وہ اپنے آبائی علاقے کی جانب لوٹ آئے تھے۔

یوکرین نے 1990ء کے عشرے میں مجلس کو تاتاری مسلمانوں کا نمائندہ ادارہ تسلیم کر لیا تھا اور وہ اس کے ساتھ ہی تاتاری مسلمانوں سے متعلق امور طے کرتی ہے۔انھوں نے کریمیا کی روس میں شمولیت کی مخالفت کی تھی اور اس مقصد کے لیے منعقدہ ریفرینڈم کا بھی بائیکاٹ کیا تھا۔