.

برطانوی شہریوں کو شام کے سفر سے روکنے کے لیے مہم

پولیس حکام کی مسلم خواتین سے پیاروں کو شام جانے سے روکنے کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ کے مسلم نوجوانوں کی شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف جہاد کے لیے آمد پر ارباب حکومت تشویش میں مبتلا ہیں اور انسداد دہشت گردی پولیس نے اب مسلم نوجوانوں کو شام جانے سے روکنے کے لیے خواتین کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

برطانیہ کے انسداد دہشت گردی حکام نے اس سلسلے میں ایک قومی آگہی مہم شروع کی ہے جس کے تحت خواتین کو شام میں ان کے قریبی عزیز مردوں کے جانے سے لاحق خطرات پر آگاہ کیا جارہا ہے اور انھیں یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ وہ اپنے قریبی عزیز نوجوانوں کو جہاد کے علاوہ انسانی خدمات کے منصوبوں میں معاونت کے لیے بھی جنگ زدہ ملک میں نہ جانے دیں۔

واضح رہے کہ برطانوی مسلمانوں کی قابل ذکر تعداد نے حالیہ مہینوں کے دوران جہاد اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے شام کا رُخ کیا ہے۔گذشتہ سال شام سے برطانیہ واپس جانے والے پچیس مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ 2014ء کے پہلے تین ماہ کے دوران چالیس افراد کی گرفتاری عمل میں آئی ہے اور ان میں سے بیشتر کے خلاف دہشت گردی کے الزامات میں فرد ہائے جرم عاید کی گئی ہیں۔

کنگز کالج لندن کے عالمی مرکز برائے مطالعہ سخت گیری اور بنیاد پرستی کے ایک تخمینے کے مطابق برطانیہ کے دوسو سے تین سو چھیاسٹھ کے درمیان مسلم شہری شام میں جاری خانہ جنگی میں شرکت کے لیے گئے ہیں۔

مذکورہ مہم کے تحت پولیس حکام نے آج جمعرات کو برطانیہ بھر میں مختلف کمیونٹی گروپوں سے تعلق رکھنے والی خواتین ،خیراتی اداروں کے رضاکاروں اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کام کرنے والے حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔

انسداد دہشت گردی حکام نے ایک پمفلٹ بھی تیار کیا ہے اور اس کو ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر مسافروں میں تقسیم کیا جائے گا۔اس میں شام کے سفر کے حوالے سے لاحق خطرات سے آگاہ کیا گیا ہے۔اس پر انسداد دہشت گردی حکام کا نمبرز بھی دیے گئے ہیں تاکہ متعلقہ خاندان شام کے سفر کا ارادہ کرنے والے اپنے کسی بھی فرد کے بارے میں اطلاع کرسکیں گے۔

انسداد دہشت گردی پولیس کی ڈپٹی اسسسٹنٹ کمشنر ہیلین بال کا کہنا ہے کہ ''ہمیں نوجوانوں کی شامی تنازعے میں شرکت یا اس مقصد کے لیے شام جانے پر تشویش لاحق ہے۔اب ہم اس بات کو یقین بنانا چاہتے ہیں کہ نوجوانوں کے شام جانے کے عمل کو روکنے کے لیے خواتین خاص طور پر ہماری مدد کریں۔اس مہم کا مقصد کسی کو مجرم ٹھہرانا نہیں بلکہ المیوں کو رونما ہونے سے روکنا ہے''۔

تاہم بعض سرکردہ مسلم خواتین نے اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔شام میں جاری لڑائی میں حال ہی میں کام آنے والے عبداللہ دغیس نامی ایک برطانوی نوجوان کی خالہ آمنہ دغیس کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں پتا چلنے والے لوگوں کو قصور وار ٹھہرایا جائے گا۔

''دی انڈی پینڈینٹ'' میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق انھوں نے کہا:''اگر یہ مقصد ہے کہ نوجوانوں سے ان کے ملک چھوڑنے سے قبل گفتگو کی جائے تو میرے خیال میں لوگ پہلے ہی ایسا کررہے ہیں۔اب حکومت کی طرف سے ان کو ایسا کہنے کی ضرورت نہیں ہے''۔

برطانیہ میں مسلم خواتین نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والی مسرت ضیاء کا کہنا ہے کہ پولیس کی اس مہم کے حوالے سے بعض کمیونٹیوں میں حقیقی عدم اعتماد پایا جاتا ہے اور اس کی وجہ سے لوگ اس مہم سے بالکل لاتعلقی ظاہر کرسکتے ہیں۔ان کے بہ قول لوگوں کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ کسی جہادی نوجوان کی نشان دہی کی صورت میں ہمیشہ کے اس کو نامزد کیا جاسکتا ہے۔

برطانیہ میں اسلامی خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ ''انسپائر'' کی ڈائریکٹر سارہ خان نے چینل فور سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''خواتین کو اپنے پیاروں پر اثرانداز ہونے کے حوالے سے ایک منفرد مقام حاصل ہے لیکن انھیں اس ضمن میں نظریاتی طور پر ضروری علم سے آراستہ کیا جانا چاہیے تاکہ وہ جہاد پر اکسانے والوں کے نظری سوالوں کا جواب دے سکیں اور انھیں یہ پتا ہو کہ انھوں نے ان کے دلائل کا کیا مسکت جواب دینا ہے''۔