قطر میں گھریلو ملازماؤں سے ناروا سلوک پر ایمنسٹی کی تنقید

انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم کا خلیجی ریاست سے لیبر قانون میں ترمیم کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خلیجی ریاست قطر میں گھروں میں کام کرنے والی غیر ملکی تارکین وطن خواتین کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ انھیں استحصال ،امتیازی سلوک اور تشدد کا سامنا ہے۔

ایمنسٹی نے ''قطر میں غیر ملکی تارکین وطن گھریلو ورکروں کا استحصال'' کے عنوان سے رپورٹ جاری کی ہے۔اس میں قطر میں گھروں میں کام کرنے والی غیرملکیوں کو درپیش مشکلات کا احاطہ کیا گیا ہے اور ان کے بیانات کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ان سے قطر میں ملازمت کے لیے بھرتی کرتے وقت ہی دھوکا کیا جاتا ہے۔وہ جب اس خلیجی ریاست میں پہنچتی ہیں تو انھیں مزدور حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے اور انھیں سخت نامساعد حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔

ایمنسٹی نے اپنے محققین کی مرتب کردہ اس رپورٹ کے مندرجات سے متعلق بدھ کو ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ''قطر میں گھروں میں کام کرنے والی خواتین کو ان کے آجر تشدد کا نشانہ بناتے ہیں،انھیں تھپڑ مارے جاتے ہیں،بالوں سے پکڑ کر کھینچا جاتا ہے، ان کی آنکھوں میں کوئی چیز ڈال دی جاتی ہے اور سیڑھیوں سے دھکا دے کر گرادیا جاتا ہے''۔

اس رپورٹ کے مصنف جیمز لنچ نے جمعرات کو العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا:''قطر میں گھروں میں کام کرنے والی غیر ملکی تارکین وطن اور دوسرے ملازمین پر لیبرقوانین کا اطلاق نہیں کیا جاتا ہے۔انھیں کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے اور ان سے کئی کئی گھنٹے کام لیا جاتا ہے''۔

رپورٹ کے مطابق:''ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جن گھریلو ملازماؤں کے انٹرویوز کیے ہیں،ان میں چودہ خواتین نے بتایا کہ وہ دن میں پندرہ،پندرہ گھنٹے کام کرتی ہیں اور انھیں کوئی ہفتہ وار چھٹی نہیں دی جاتی۔اس طرح وہ ہفتے بھر میں اوسطاً ایک سو گھنٹے سے بھی زیادہ کام کرتی ہیں''۔

اس رپورٹ میں باون گھریلو ملازمہ خواتین ،قطر کے سرکاری حکام ،گھریلو ملازماؤں کے آبائی ممالک کے سفارت خانوں اور ریکروٹمنٹ ایجنسیوں کے ذمے داروں کے انٹرویوز شامل ہیں۔

قطر کی وزارت خارجہ نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے غیرملکی تارکین وطن کو قانونی تحفظ نہ دینے کے حوالے سے الزامات کی صحت سے انکار کیا ہے۔وزارت خارجہ کی جانب سے 17 اپریل 2014ء کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ''ملازموں کے اس طبقے پر لیبر قانون کے عدم اطلاق کا یہ مطلب نہیں کہ انھیں کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہے''۔

بیان میں بالاصرار کہا گیا ہے کہ ''قطری قانون میں گھریلو ملازماؤں پر جسمانی اور جنسی تشدد کے ذمے داروں کے لیے سخت سزائیں موجود ہیں''۔لیکن مسٹر جیمز لنچ نے اس قانون کے نفاذ کی یہ صورت بیان ہے کہ ''ناروا سلوک کا نشانہ بننے والی خواتین اپنے اسپانسر کے خلاف کیس دائر کرسکتی ہے اور یہ امر حقیقت پسندانہ نہیں ہے''۔

انھوں نے بتایا کہ ''بعض اوقات ان ملازماؤں کو گھروں سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ان کے موبائل فون تک ضبط کر لیے جاتے ہیں۔ہمیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ کسی نے ناروا سلوک پر سول عدالت میں اپنے آجر کے خلاف کوئی کیس دائر کیا ہو''۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے رپورٹ میں قطر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لیبرقوانین کی ایک متعلقہ دفعہ کو منسوخ کرے تا کہ غیرملکی گھریلو ورکروں سمیت تمام ورکروں کے مزدور حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔نیز قطر عالمی ادارہ محنت کے قوانین اور گھریلو ورکروں سے متعلق کنونشن کے مطابق قانون سازی کرے۔

واضح رہے کہ قطر میں اس وقت قریباً چوراسی ہزار غیرملکی خواتین گھریلو کام کاج کررہی ہیں۔ان میں سے زیادہ تر کا تعلق جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا سے ہے۔قطر 2022ء میں عالمی فٹ بال کپ کی میزبانی کرےگا۔ فٹ بال عالمی کپ کی تیاریوں کے ضمن میں بھی وہ مزدور حقوق کے حوالے سے مختلف الزامات کی زد میں ہے۔اس پر نیپال سے تعلق رکھنے والے مزدوروں سے جبری مشقت لینے کے بھِی الزامات عاید کیے گئے ہیں اور گذشتہ موسم گرما میں ان میں سے بہت سے مزدور شدید درجہ حرارت میں کام کے دوران دم توڑ گئے تھے جبکہ انھیں کام کے مقابلے میں معاوضہ بھی کم دیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں