ایران، عراقی ملیشیاوں کو چلا رہا ہے: امریکی جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق میں امریکی اور اتحادی فوج کے سابق جنرل کمانڈنگ آفیسر جنرل جارج کیسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے بیرون کارروائیوں کے ذمہ دار یونٹ القدس فورس اور عراق میں سرگرم شیعہ ملیشیا کے درمیان گہرا تعلق و رابطہ موجود ہے۔

جنرل کیس امریکی ریاست ایری زونا میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے جو عراق میں مجاہدین خلق کے لبرٹی کیمپ کے لئے چندہ جمع کرنے کی غرض سے منعقد کی گئی تھی۔

امریکی جنرل کیسی عراق میں سنہ 2004 سے 2007 کی مدت کے دوران عراق میں فوجی خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں کہ ایران خطے کی صورتحال میں بھونچال لانے کے لیے کیسی کیسی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ القدس فورس کے چھے اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے جو عراق میں سرگرم شیعہ ملیشیا سے تعلق رکھنے والے البدر یونٹ سے ملاقاتیں کرتے پھر رہے تھے۔ نیز اس کارروائی میں ایسا مواد بھی ملا ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عراقی ملیشیا نے ایرانی پاسداران انقلاب سے اسلحہ اور دیگر جنگی ساز و سامان وصول کیا۔

کارروائی کے دوران پکڑے جانے والے بغداد کے ایک نقشے میں شہر کے بعض حصوں کو مختلف رنگوں سے نمایاں کیا گیا تھا۔ یہ نشاندہی اس بات کی غمازی کرتی تھی کہ کن علاقوں سے اہل سنت اور عیسائیوں کو نکال کر وہاں عراقی شیعہ ملیشیا کو کںڑول دلوانا ہے۔

جنرل کیسی نے یہ بات زور دیکر کہی کہ علاقائی طاقتوں کو یہ امر جاننے میں دیر نہیں لگانی چاہئے کہ تہران حکومت خطے میں کیسے اور کیونکر بدامنی پھیلانا چاہتی ہے۔ امریکی فوجی رہنما کے بہ قول مجھے اس میں شک نہیں کہ ایران اپنی یہی حکمت عملی عراق، شام اور لبنان میں بلا روک جاری رکھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں