.

سارے دہشت گرد سارے مسلمان، بی جے پی نے نتیجہ سنا دیا

انتخابی نتائج سے صرف دو دن پہلے ہندو رہنما کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت جسے اس کے ووٹروں کی تعداد کے باعث سب سے بڑی جمہوریہ کہا جاتا ہے، میں سات اپریل سے بارہ مئ تک جاری رہنے والے انتخابات کے نتائج سامنے آنے سے پہلے امکانی حکمران جماعت نے مسلمانوں کے بارے میں اپے عزائم ظاہر کرنا شروع کر دیے ہیں۔ اس کا انتخابی نتائج کے اعلان سے محض دو دن پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما گری راج سنگھ نے یہ اظہار یہ کہہ کر کیا ہے کہ ''گرفتار ہونے والے سارے دہشت گرد مسلمان ہیں۔''

آئینی اعتبار سے ایک سیکولر ملک ہونے کے باوجود بھارت عملی طور پر مذہب، نسل، زبان اور چھوت چھات کے ہدوانہ تصورات میں بٹے ہوئے لوگوں کا ملک ہے۔ جس میں غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مسلمانوں کی تعداد 25 کروڑ ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود بھارتی مسلمان بی جے پی، آر ایس ایس اور دوسری ہندو انتہا پسند تنظیموں کے غیظ وغضب کا شکار رہتے ہیں۔

اب تک کے سارے جائزوں میں نمایاں ترین رہنے والے نریندر مودی خود بھی مبینہ طور پر مسلم دشمنی کے وجہ سے مشہور ہیں۔ اس لیے بھارت کے اعتدال پسند حلقے آنے والے دنوں میں بھارت کو ماضی سے زیادہ متشدد بیخیال کرنا شروع ہو گئے ہیں۔

نریندر مودی کے اس کٹر حامی انتخابی امیدوار اور بی جے پی کے بہاری رہنما نے اپنی انتخابی مہم کے دوران بھی مسلمانوں اور پاکستان کے بارے میں پوری دیدہ دلیری سے لب کشائی اور آتش بیانی سے کام لیا تھا۔ گری راج نے اپنے ایک انتخابی جلسہ میں کہا جو مودی کا مخالف ہے وہ پاکستان چلا جائے۔ گویا جس نے بھارت میں رہنا ہو گا، جیے مودی کہنا ہو گا۔''

اب اسی رہنما نے کہا ہے کہ وہ یہ نہیں کہہ رہے سارے مسلمان دہشت گرد ہیں لیکن ''یہ ضرور کہہ رہا ہوں کہ جو بھی دہشت گرد پکرا جاتا ہے وہ مسلمان ہوتا ہے۔'' بی جے پی نے اپنے اس رہنما کے بیان پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔ البتہ کانگریس کے ترجمان راشد علوی نے گری راج کے بیان کی مذمت کی اور کہا ہے کہ ''دہشت گردی کو مزہب کے خانوں میں نہیں بانٹا جا سکتا ہے۔''

بی جے پی کے گری راج کے اس تازہ بیان کے خلاف کل کلاں مسلمان ریاستی پولیس کے مسلمانوں کے خلاف ظالمانہ سلوک کو ایشو بھی بنا سکتی ہے کہ بھارتی پولیس اور تمام سکیورٹی اداروں کا صرف مسلمانوں کو ہی ٹارگیٹ بنایا جاتا ہے اور دیگر دہشت گردوں کی ریاستی سطح سے حمایت کی جاتی ہے۔ گری راج کے اس بیان سے انتخابات سے پہلے اس آگ کے بھڑکنے کی رہ ہموار ہو سکتی ہے جس کی مودی کے قومی سطح پر کامیابی کے امکانات پر تشویش میں مبتلا سیکولر دانشور تجزیے پیش کر رہے ہیں۔

گری راج سنگھ کے اس بیان سے مسلمانوں میں پریشانی کی لہر فطری ہے کہ اگر گری راج سنگھ کی سوچ اس قدر خوفناکی لیے ہوئے ہے تو گجرات کے سابق وزیر اعلی کے عزائم کیا ہوں گے۔