.

قطر میں موسم گرما میں عالمی کپ کا انعقاد غلطی ہے: سیپ بلیٹر

فرانس اور جرمنی کے سیاسی دباؤ پر خلیجی ریاست کو میزبانی کے لیے منتخب کیا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فٹ بال کی عالمی فیڈریشن تنظیم (فیفا) کے صدر سیپ بلیٹر نے قطر میں شدید گرم موسم میں عالمی کپ کے انعقاد کو ایک غلطی قرار دے دیا ہے اور یہ انکشاف کیا ہے کہ اس خلیجی ریاست کو فرانس اور جرمنی کے سیاسی دباؤ پر عالمی کپ کی میزبانی کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

انھوں نے یہ بات ایک سوئس ٹیلی ویژن چینل کے ساتھ انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''قطر سے متعلق ٹیکنیکل رپورٹ میں واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ اس ملک میں موسم گرم ہوگا لیکن اس کے باوجود فیفا کی انتظامی کمیٹی نے کثرت رائے سے وہاں فٹ بال عالمی کپ کے انعقاد کا فیصلہ کیا تھا۔یہ ایک غلطی ہے اور آپ جانتے ہیں کہ انسان اپنی زندگی میں بہت سے غلطیوں کا ارتکاب کرتا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ قطر میں جون اور جولائی کی شدید گرمی سے بچنے کے لیے ٹورنا منٹ کو موسم خزاں تک موخر کرنے کا بھی امکان ہوسکتا ہے۔فیفا نے جمعہ کو سیپ بلیٹر کے اس انٹرویو سے متعلق ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا ہے کہ وہ 2022ء میں ہونے والے عالمی فٹ بال کپ ٹورنا منٹ کی میزبانی کے لیے قطر کے انتخاب پر کوئی سوال نہیں اٹھا رہے تھے۔

اس بیان کے مطابق:''صدر نے صحافیوں کو اپنے جواب میں وضاحت کردی ہے کہ قطر میں موسمی جائزے سے متعلق ٹیکنیکل رپورٹ کے باوجود شدید گرم موسم میں عالمی کپ کے انعقاد کا فیصلہ ایک غلطی ہے لیکن انھوں نے قطر کو میزبانی کے لیے منتخب کرنے کے حوالے سے کوئی سوال نہیں اٹھایا ہے''۔

مسٹر سیپ بلیٹر نے انٹرویو میں اس رائے کو بھی مسترد کردیا ہے کہ قطر نے فٹ بال عالمی کپ کی میزبانی کے لیے اپنی گیس اور تیل کی دولت کو استعمال کیا ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ فرانس اور جرمنی کی جانب سے قطر کو میزبانی دینے کے لیے سیاسی دباؤ ڈالا گیا تھا کیونکہ ان دونوں ممالک کی بڑی کمپنیاں اس خلیجی ملک میں کام کررہی ہیں۔

انھوں نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ بدستور فیفا کے صدر رہنا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ وہ 1998ء سے فٹ بال کی عالمی فیڈریشن کے صدر چلے آرہے ہیں۔تنظیم کے نئے صدر کا آیندہ سال مئی میں انتخاب کیا جائے گا۔تب ان کی عمر اناسی برس ہوگی۔