بنغازی میں جنرل حفتر پر ناکام قاتلانہ حملہ
لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بنغازی میں بدھ کے روز سابق جنرل حفتر کے ایک ٹھکانے پر خودکش حملے میں ان کے تین وفادار مارے گئے ہیں۔
جنرل حفتر کے ایک کمانڈر نے بتایا کہ حملے کے وقت وہ بیس میں موجود تھے، تاہم وہ اس میں محفوظ رہے۔ اسلامی تحریکوں کے جانی دشمن اور امریکی سی آئی اے کے سابق ایجنٹ نے مشرقی شہر میں جہادیوں کے متعدد ٹھکانوں کے خلاف آپریشنز کی قیادت کر چکے ہیں۔
جنرل حفتر کی زیر کمان فضائیہ کے سربراہ جنرل شجر الجروشی نے بتایا کہ دھماکا خیز مواد سے لدی گاڑی کو خودکش بمبار اس بنگلے کے باہر لے آیا جہاں ہم لوگ موجود تھے۔ تاہم اس کارروائی میں جنرل حفتر تو محفوظ رہے مگر ان کے حامی چار سپاہی ہلاک ہو گئے۔
-
لیبیا: دارالحکومت طرابلس میں اسلامی ملیشیا تعینات
جنرل حفتر کے جنگجوؤں کے پارلیمان پر حملے کو روکنے کے لیے اقدام
بين الاقوامى -
بحران سے نکلنے کیلیے عبوری حکومت قائم کی جائے: جنرل حفتر
لیبیا کے سرکش جرنیل نے سپریم جوڈیشل کونسل سے مطالبہ کر دیا
بين الاقوامى -
لیبیا: انقلابیوں نے جنرل حفتر کی کارروائیوں کی مذمت کردی
اٹارنی جنرل سے جرائم میں ملوث گروہوں کے نام شائع کرنے کا مطالبہ
بين الاقوامى