یوکرینی صدر پیٹرو پوروشنکو نے صدارت کا حلف اٹھا لیا

پیوتن اور منتخب یوکرینی صدر کے درمیان پہلی ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مغرب نواز ارب پتی تاجر پیٹرو پوروشنکو نے ہفتے کے روز یوکرین کے پانچویں صدر کے طور پر اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ حلف برداری کی تقریب دارلحکومت کیف میں پارلیمنٹ ہاوس کے اندر منعقد ہوئی جس میں متعدد ملکوں کے صدور اور سربراہاں حکومت شامل ہوئے۔

اڑتالیس سالہ پیٹرو پوروشنکو نے 25 مئی کو ہونے والے انتخاب میں 54 فیصد ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے یوکرین کے دستور اور انجیل مقدس پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا۔

ادھر یوکرین کے نو منتخب صدر پیٹرو پوروشنکو نے روسی صدر ولادی میر پیوتن کے ساتھ اپنی ملاقات کو مشرقی یوکرین میں جاری بحران کے سلسلے میں مذاکرات کا آغاز قرار دیا ہے۔

پوروشنکو کی حلف وفاداری کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ روس جلد ہی انھیں تسلیم کر کے اتوار کے روز مذاکرات کا آغاز کر دے گا۔ صدر پیوتن نے کیف کے رویے کی تعریف کی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے قبل قوری جنگ بندی لازمی ہے۔

صدر پیوتن اور نو منتخب صدر پوروشنکو کی ملاقات فرانس کے شہر نورمنڈی میں دوسری جنگِ عظیم کے ڈی ڈے کی یاد میں ہونے والی تقریب میں ہوئی۔ مئی میں پیٹرو پوروشنکو کے انتخاب کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے بھی صدر پیوتن سے یوکرین میں جاری بحران کے حل کے سلسلے میں بات چیت کی۔

درایں اثنا روس حامی باغیوں اور یوکرین کی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ جمعے کو باغیوں نے ایک حکومتی طیارہ ما گرایا تھا۔

یوکرینی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ طیارے پر امداد سامانا لدا ہوا تھا تاہم اس بات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

یاد رہے کہ صنعتی ممالک کے گروپ جی سیون کے رہنماؤں نے حال ہی میں روس سے کہا تھا کہ اسے یوکرین کی نئی قیادت کے ساتھ بات چیت شروع کرنی چاہیے تاکہ بحران کا حل نکالا جا سکے۔ امریکی صدر براک اوباما اور برطانیہ کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے روس پر زور دیا تھا وہ یوکرین کے نو منتخب صدر پیٹرو پوروشینكو کو تسلیم کرے۔

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں برطانوی وزیرِ اعظم نے روسی صدر ولادی میر پیوتن سے ملاقات بھی کی اور انھیں یوکرین کے بحران کے حل کے بارے میں اپنے واضح موقف سے آگاہ کیا۔ بحران کے آغاز کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب پیوتن نے کسی مغربی ملک کے رہنما سے بالمشافہ ملے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں