لیبیا میں امریکی قونصلیٹ پر حملے کا مرکزی کردار گرفتار
امریکی فوجیوں اور ایف بی آئی کے ایجنٹوں کی لیبیا کے بنغازی کے نزدیک کارروائی
امریکی فورسز نے لیبیا کے مشرقی شہر بن غازی میں ستمبر 2012ء میں امریکی قونصل خانے پر حملے کے مرکزی مشتبہ کردار کو گرفتار کر لیا ہے۔ اس حملے میں لیبیا میں متعین امریکی سفیر کرس اسٹیونز سمیت چار اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان جان کربی نے بتایا ہے کہ امریکی فوجیوں اور وفاقی ادارہ تحقیقات (ایف بی آئی ) کے ایجنٹوں نے اتوار کے روز بن غازی کے نزدیک ایک کارروائی میں قونصل خانے پر حملے کے مرکزی کردار احمد ابو ختالة کو پکڑا ہے۔وہ اب لیبیا سے باہر امریکا کی تحویل میں ہے۔
پینٹاگان کے پریس سیکریٹری نے کہا کہ ''اس آپریشن میں حصہ لینے والے تمام امریکی اہلکار بہ حفاظت لیبیا سے واپس چلے گئے ہیں اور اس کارروائی میں کسی شہری کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا''۔
احمد ابو ختالة کی گرفتاری امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ کی ایک بڑی کامیابی ہے۔اوباما انتظامیہ کو بن غازی میں 11ستمبر 2012ء کو احتجاجی مظاہرے کے دوران مسلح افراد کے حملے کو روکنے میں ناکامی پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اس پر اس حملے میں ملوث افراد کو گرفتار نہ کرنے پر بھی کڑی نکتہ چینی کی گئی تھی۔
-
لیبیا: بن غازی میں تصادم سات ہلاک 15 زخمی
مرنے والوں میں پانچ فوجی ہیں
مشرق وسطی -
لیبیا خانہ جنگی کے دہانے پر ،امریکا کو تشویش
بن غازی میں راکٹ حملے میں ایک ہی خاندان کے 21 افراد زخمی
بين الاقوامى -
لیبیا: بن غازی میں خفیہ ادارے کا سربراہ قتل
ایک میڈیکل سنٹر کے نزدیک نامعلوم حملہ آوروں کی کرنل ابراہیم کی کار پر فائرنگ
بين الاقوامى -
بن غازی: انصار الشرعیہ اور لیبیا کی فوج کی جھڑپیں
متعدد افراد زخمی، دونوں طرف سے قوت جمع کرنے کی کوشش
مشرق وسطی -
بن غازی میں امریکی قونصل خانے پر حملہ،گرفتار تیونسی رہا
تیونس کی ماتحت عدالت سے عدم ثبوت کی بناء پر بریت
بين الاقوامى -
لیبیا میں تین پاکستانی نژاد برطانوی خواتین کی عصمت دری
بن غازی میں سرکاری ملیشیا کے ارکان کا خواتین پر والد کے سامنے جنسی تشدد
پاكستان