ایران نے عراق میں امریکی مداخلت کی مخالفت کردی
امریکا عراق میں اپنے آلہ کاروں کو اقتدار دلانا چاہتا ہے:آیت اللہ علی خامنہ ای
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے عراق میں امریکا یا کسی اور کی مداخلت کی مخالفت کردی ہے اور کہا ہے کہ عراقی عوام اور قائدین خود تشدد کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔
ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای نے اتوار کو عدلیہ کے حکام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''امریکا عراق کو اپنے کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے اور اپنے آلہ کاروں کو اقتدار دلانا چاہتا ہے۔وہاں تنازعہ فرقہ وارانہ نوعیت کا نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کے درمیان ہے جو عراق کو امریکا کے کیمپ میں رکھنا چاہتے ہیں یا جو اس کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں''۔
علی خامنہ ای نے کہا کہ ''ہم امریکا یا دوسرے ممالک کی عراق میں مداخلت کے سخت مخالف ہیں۔ہم اس کی حمایت نہیں کرتے ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ عراقی حکومت ،قوم اور مذہبی حکام بغاوت کے خاتمے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اللہ کے فضل سے وہ ایسا کرکے رہیں گے''۔
ان کا کہنا تھا کہ ''امریکا عراق میں جاری سیاسی عمل سے خوش نہیں ہے جس کے تحت عراقیوں نے بڑی تعداد میں انتخابات میں حصہ لیا اور اپنے نمائندوں کا انتخاب کیا مگر امریکا عراق کو اپنے تسلط میں رکھنا چاہتا ہے اور اپنے ہی آلہ کاروں کے ذریعے وہاں حکمرانی کرنا چاہتا ہے''۔
وہ عراق میں اپریل میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات کا حوالہ دے رہے تھے جن میں موجودہ وزیراعظم نوری المالکی کی قیادت میں اتحاد نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں لیکن اب انھیں ملک کی سنی آبادی کو دیوار سے لگانے کے ردعمل میں شمالی علاقوں میں القاعدہ سے متاثر تنظیم دولت اسلامی عراق وشام (داعش) اور ان کے اتحادی قبائل کی مسلح بغاوت کا سامنا ہے۔
امریکی صدر براک اوباما نے گذشتہ جمعرات کو داعش کی مسلح بغاوت کو کچلنے میں مدد دینے کے لیے تین سو فوجی مشیروں کو عراق بھیجنے کا اعلان کیا تھا جو وہاں عراقی سکیورٹی فورسز کو تربیت دیں گے اور ان کی معاونت اور مشاورت کا جائزہ لیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا اگر عراق میں داعش کو روکنے کے لیے مداخلت کرتا ہے تو یہ ایک اچھی سرمایہ کاری ہوگی کیونکہ داعش وہاں اپنے اڈے بنا لیتی ہے تو ان سے بآلاخر خطرہ مغرب ہی کو ہوگا۔
عراقی حکومت نے امریکا سے داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے کی درخواست کی تھی لیکن ابھی تک صدر براک اوباما نے عراق کی اس درخواست کا کوئی واضح جواب نہیں دیا ہے۔البتہ امریکی حکام نے گذشتہ ہفتے یہ اطلاع دی تھی کہ فضائیہ نے ایف 18 جنگی طیاروں کے ذریعے عراق میں مزاحمت کاروں کی نگرانی شروع کردی ہے۔یہ جنگی طیارے خلیج میں امریکی بحری بیڑے جارج ایچ ڈبلیو بش پر موجود ہیں اوروہیں سے پروازیں کررہے ہیں۔