جان کیری: عراقی کردستان میں کرد قیادت سے ملاقات

کردوں کی بغداد حکومت و سیاست علیحدگی منفی رجحان ہوگا، امریکی ذمہ دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے عراق کے دورے کے دوسرے مرحلے پر عراقی کردستان کے شہر اربیل پہنچ کر کرد رہنماوں سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ تبادلہ خیال میں عراق کا مستقبل زیر بحث رہا۔

ایک روز پہلے جان کیری نے بغداد میں وزیر اعظم نوری المالکی کے علاوہ مختلف سیاسی رہنماوں سے بھی ملاقات کر کے عراق کے مستقبل پر بات چیت کی تھی۔

کرد علاقے میں پیش مرگا جنگجووں اور خود مختار کردستان سے تعلق رکھنے والی سکیورٹی فورسز نے اہم شہر کرکوک پر کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ یہ ڈویلپمنٹ سنی علاقوں سے عراقی فوج کی پسپائی کے بعد عمل میں آئی ہے۔

واضح رہے تیل کی دولت سے مالا مال کرکوک پر کرد ایک عرصے سے قبضے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ کرد کرکوک کو روائتی طور پر اپنا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔

کرکوک پر قبضے کا مطلب ہے کہ وہ تیل کی دولت پر قابض ہو گئے اور انہیں بغداد کے بجٹ کی ضرورت نہیں رہے گی۔ کرد اس اپنی مجوزہ آزاد ریاست کا دارالحکومت کرکوک کو ہی بنانا چاہتے ہیں۔

مشرق وسطی کے دورے پر آئے جان کیری نے کرد رہنماوں کے ساتھ عراقی مسئلے کی سنگینی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ انہوں نے کرد رہنماوں سے عراق کا حصہ رہنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ نیز انہیں کہا ہے کہ وہ نئی عراقی حکومت کا حصہ بن کر اس میں سینئیر پوزیشنیں حاصل کر سکتے ہیں۔

ایک روز قبل جان کیری نے کہا تھا انہیں یقین دلایا گیا ہے کہ نوری المالکی یکم جولائی تک ایک متحدہ حکومت قائم کر لیں گے۔ خیال رہے امریکا مالکی کو دارالحکومت کی طرف بڑھتے ہوئے سنی عسکریت پسندوں کے جلد سے جلد نمٹتے دیکھنا چاہتا ہے۔

ایک امریکی ذمہ دار کا کہنا ہے کہ اگر کردوں نے خود کو بغداد کے حکومتی اور سیاسی معاملات سے الگ کر لیا تو یہ ایک منفی رجحان ہو گا جو سامنے آئے گا۔ دوسری جانب کرد اپنے وطن کے لیے کوشاں ہیں اور کرکوک کو اپنا روحانی مرکز سمجھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں