"بوکو حرام 200 طالبات رہا کر کے مجھے یرغمال بنا لیں"

نائیجرین مغنیہ ننھی لڑکیوں کے بدلے اپنی 'عصمت لٹانے' پر تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

نائیجریا کی ایک مشہور پاپ گلوکارہ اڈوکیا نے 200 سکول طالبات کی رہائی کے بدلے خود کو اسلام پسند دہشت گرد تنظیم بوکو حرام کی قید میں دینے کی پیشکش کی ہے۔ ان طالبات کو اسی سال اپریل میں بوکو حرام کے جنگجووں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔

برطانوی اخبار 'ڈیلی میل' کے مطابق اڈوکیا نے یہ پیشکش ایک مقامی اخبار "وینگارڈ" کو انٹرویو دیتے ہوئے کی۔ اڈوکیا، نائیجریا میں صرف گلوکاری کی وجہ سے مشہور نہیں بلکہ ان کی عوامی مقبولیت کے پیش نظر اقوام متحدہ نے انہیں امن کا سفیر بھی مقرر کر رکھا ہے۔

وینگارڈ نامی اخبار سے بات کرتے ہوئے اڈوکیا نے کہا کہ "رات کے گیارہ بجے ہیں، آپ کو پتا میں کیا سوچ رہی ہوں؟ وہ ننھی بچیاں کہاں ہیں، نہ جانے اس کے ساتھ بیت رہی ہو گی؟ یہ سب ناانصافی ہے۔ وہ بہت چھوٹی ہیں۔ کاش میں ان کی رہائی کے بدلے خود کو بوکو حرام کے جنگجووں کو پیش کر سکوں؟"

یاد رہے امسال اپریل میں بوکو حرام کے مسلح ارکان نے نائجیریا کے علاقے چیبوک کے ایک سکول سے 200 سے زائد لڑکیوں کو اغوا کیا تھا جو تاحال ان کے پاس قید ہیں۔

بوکو حرام ان لڑکیوں کی رہائی کے بدلے اپنی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ ان لڑکیوں کی بازیابی کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

خیال رہے کہ بوکو حرام نے نائجیریا میں اسلامی ریاست قائم کرنے کے لیے سنہ 2009 سے پرتشدد کارروائیاں شروع کی ہیں جن میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں