الجزائر: صدر بوتفلیقہ طویل 'روپوشی' کے بعد اچانک نمودار
وہیل چیئر پر ایوان صدر سے باہر آئے، شہداء آزادی کی تقریب میں شرکت
شمالی افریقا کے بڑے عرب ملک الجزائر کے معمر صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کئی ماہ سیاسی منطر نامے سے غائب رہنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اچانک عوام کے سامنے نمودار ہوئے ہیں۔
اُنہیں گذشتہ روز شہداء آزادی کی 52 ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کی ایک سرکاری تقریب میں دیکھا گیا۔ صدر بوتفلیقہ وہیل چیئر پر ایوان صدر سے باہر آئے جہاں انہیں دارالحکومت کے مشرق میں العالیہ شہداء قبرستان لے جایا گیا۔ صدر نے شہداء آزادی کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ان کی قبروں پر پھول چڑھائے۔
خیال رہے کہ صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ 28 اپریل کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں چوتھی مرتبہ ملک کے صدر منتخب ہوئے تھے تاہم علالت کے باعث وہ کافی عرصے سے منظر عام سے غائب تھے۔ ان کی صحت کے بارے میں میڈیا میں متضاد اطلاعات بھی آتی رہی ہیں۔ ایوان صدر تک محدود ہو جانے کے بعد انہوں نے علالت کے باوجود اہم ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھا۔
ستتر سالہ صد بوتفلیقہ 1962 کی جنگ آزادی میں فرانسیسی استعمار کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جانیں قربان کرنے والے سپاہیوں، فوجی افسروں اور دیگر قائدین کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر مسلح افواج کے چاک چوبند دستے نے صدر مملکت کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ تقریب میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اسپیکر، وزراء مجاہدین نیشنل آرگنائزیشن کے چیئرمین بھی موجود تھے۔
-
الجزائری صدر فرانس میں زیر علاج رہنے کے بعد وطن واپس
عارضہ قلب میں مبتلا عبدالعزیز بوتفلیقہ بدستور آرام کریں گے: ایوان صدر
بين الاقوامى -
الجزائری صدر کی حالت بگڑنے سے متعلق رپورٹس پر اخبارات سنسر
عبدالعزیز بوتفلیقہ کی 27 اپریل سے پیرس کے اسپتال میں زیرعلاج رہنے کی اطلاعات
بين الاقوامى -
عبدالعزیز بوتفلیقہ چوتھی مرتبہ صدارتی انتخابات لڑیں گے
الجزائر میں وزارت داخلہ کو کاغذات نامزدگی حاصل کرنے کی ہدایت
بين الاقوامى