ایرانی فوج کا ملک میں 'بے پردگی' کے خلاف اعلان جنگ!

"ملک میں فحاشی اور عریانی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں قدامت پسند حلقے حجاب اور اخلاقی روایات کی پابندی کے لیے روزمرہ کی بنیاد پر سرگرم عمل رہتے ہیں مگر اب فوج بھی اس میدان میں ان کے ساتھ شامل ہو گئی ہے۔ ایران کی مسلح افواج نے خبردار کیا ہے کہ وہ ملک میں'بے پردگی' اور اخلاقی وثقافتی بے راہ روی کے بڑھتے رجحان کے خلاف بھرپور جنگ کرے گی۔

نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی"مہر" کے مطابق ایران کی مسلح افواج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے ملک کے خلاف طاغوت نے کئی قسم کی جنگیں برپا کر رکھی ہیں۔ ان میں ایک جنگ اخلاقی بے راہ روی کو عام کرنے اور ایران کے مسلمہ اسلامی قوانین اور اقدار روایات کی خلاف ورزی کا ماحول پیدا کرتے ہوئے معاشرے کو اخلاقی انحطاط سے دوچار کرنا ہے۔

فوج اس جنگ کا بھرپور طریقےسے مقابلہ کرے گی۔ فوج کا کہنا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے ایرانی خواتین کے دل و دماغ سے عفت و پاکدانی اور حجاب کی اہمیت کو کھرچ کھرچ کر نکالا جا رہا ہے اور نئی نسل کو فحاشی اور عریانی کا عادی بنایا جا رہا ہے۔

بیان میں ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن چینلوں پر خواتین کے بے حجاب نمودار ہونے پر شدید تنقید کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ٹیلی ویژن پر خواتین جس انداز میں 'جلوہ گر' ہو رہیں وہ ایران کی ثقافتی اور اخلاقی روایات کے منافی اور مرشد اعلٰی کی ہدایت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

مسلح افواج نے واضح الفاظ میں حجاب کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کارلانے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ مسلح افواج دینی اقدارکے تحفظ اور شرعی اصول وضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔

ایران کی مسلح افواج کی جانب سے ملک میں اخلاقی بے راہ روی کے خلاف اعلان جنگ کو ملک میں روایت اور جدت کے درمیان جاری کشمکش کا حصہ قرار دیا جاتا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق موسم گرما آتے ہی جہاں بڑی تعداد میں مرد وزن گھروں سے نکل کر سیر گاہوں کا رخ کرتے ہیں، وہیں پبلک مقامات پر خواتین کو حجاب کے بغیر بھی بکثرت دیکھا جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایران کے قدامت پسند گروپوں کی جانب سے حکومت سے بار بار مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے کہ وہ ملک میں خواتین میں تیزی کے ساتھ فروغ پانے والے حجاب مخالف رجحان کا نوٹس لے اورحجاب نہ کرنے والی خواتین کو سزائیں دی جائیں۔

ہفتے کے روز تہران میں اسلامی ثقافتی اقدار کے تحفظ اور حجاب کی حمایت میں ایک بڑی ریلی بھی نکالی گئی۔ ریلی کے شرکاء نے اپنی تقاریر میں کہا کہ ملک میں موجود ٹیلی ویژن چینل خواتین میں حجاب مخالف رجحان پیدا کرنے کا موجب بن رہے ہیں، لہٰذا حکومت ٹی وی چینلوں کو قومی اخلاقی اور ثقافتی روایات کا پند بنائے۔

خیال رہے کہ ایران کے شہری علاقوں میں خواتین سر کے بالوں کو جزوی طور پر ڈھانپنے والا اسکارف اوڑھنے کے ساتھ تنگ لباس کی بھی عادی ہونے لگی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں