کویت :اپوزیشن کا شہریت منسوخی کے انتباہ پر احتجاج

حکومت برطرف اور پارلیمان تحلیل کرکے نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کویت کی حزب اختلاف نے حکومت کی جانب سے قومی سلامتی کے لیے خطرے کا موجب بننے والے شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے کے فیصلے کی مذمت کی ہے اور حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

کویتی کابینہ نے سوموار کو وزارت داخلہ کو ملک کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرے کا موجب بننے والے افراد کی شہریت منسوخ کرنے کا جائزہ لینے کا حکم دیا تھا اور پرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت مخالفین سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔حکومت نے سیاست میں ملوث ہونے والی غیر منافع بخش تنظیموں بہ شمول اسلامی خیراتی اداروں کو بھی انتباہ کیا تھا۔

کویت کی بائیں بازو کی ترقی پسند تحریک نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''یہ تو سکیورٹی ایجنسیوں کو حزب اختلاف کے پُرامن مظاہروں کو کچلنے ، ان کی شہریت منسوخ کرنے اور غیر منافع بخش اداروں کے خلاف کارروائی کا کھلا دعوت نامہ ہے''۔

لبرل نیشنل ڈیمو کریٹک الائنس کے ایک لیڈر بشارالسیغ نے کہا ہے کہ ''کسی بھی کویتی شہری کی شہریت کی منسوخی انسانیت کے خلاف جارحانہ اقدام ہے۔خاص طور پر اگر یہ سیاسی اور مذہبی رائے کی بنیاد پر کیا جارہا ہے تو پھر یہ ایک جارحیت ہے''۔

ترقی پسند تحریک اور حزب اختلاف کی شخصیات نے حکومت کو فوری طور پر برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ پارلیمان کو تحلیل کرکے پرانے انتخابی قانون کی بنیاد پر نئے پارلیمانی انتخابات کرائے جائیں۔

تاہم حکومت نواز ایک رکن پارلیمان نبیل الفضل نے کابینہ کے فیصلے کو سراہا ہے اور اس پر فوری عمل درآمد کی ضرورت پر زوردیا ہے۔انھوں نے ٹویٹر پر لکھا:''ہم خبردار کرتے ہیں کہ اگر حکومت کی جانب سے سنجیدگی کے اظہار کے لیے اس حکم پر فوری طور پر عمل درآمد نہ کیا گیا تو یہ رائیگاں چلا جائے گا''۔

حکومت کی جانب سے نئے فیصلے کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب سابق سینیر عہدے داروں پر حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش تیار کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں اور یہ کہا جارہا ہے کہ انھوں نے قومی خزانے سے اربوں لوٹ لیے تھے۔

حزب اختلاف نے اسی ماہ سرکردہ اپوزیشن لیڈر مسلم البراک کی عدلیہ کی توہین کے الزام میں گرفتاری کے خلاف مظاہرے کیے تھے اور مظاہرین کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں۔پولیس نے مظاہروں کے الزام میں پچاس افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔البتہ اب ان میں سے بیشتر ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں