اسرائیل کے جنگی جرائم عالمی فوجداری عدالت میں!

غزہ میں صہیونی جارحیت کے دوران جنگی جرائم کے واضح ثبوت موجود ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے خلاف ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

ریاض المالکی نے منگل کو ہیگ میں آئی سی سی کے پراسیکیوٹرز سے ملاقات کی ہے۔اس کے بعد انھوں نے کہا کہ ہمیں جنگی جرائم کے مجرموں کو آئی سی سی کے انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ میں جارحیت کے دوران جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور اس کے واضح ثبوت موجود ہیں۔

فلسطینی وزیرخارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حماس اور اسرائیل نے مصر کی ثالثی میں بہتر گھنٹے کے لیے غزہ کی پٹی میں جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے۔اسرائیل نے قریباً ایک ماہ کے دوران غزہ کی پٹی کے شہری علاقوں پر بلاامتیاز تباہ کن بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں قریباً ایک ہزار نوسو فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔ان میں پانچ سو کے لگ بھگ کم سن بچے ہیں۔

فلسطینی قیادت اورمسلم ممالک اسرائیل پر جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے الزامات عاید کررہے ہیں مگر صہیونی لیڈر کمال ڈھٹائی سے یہ دعوے کرتے چلے آرہے ہیں کہ انھوں نے جنگ کے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کے خلاف کارروائی کی ہے لیکن ان کے اس دعوے کو کوئی بھی انصاف پسند تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

فلسطینی وزیرخارجہ نے گذشتہ ماہ اقوام متحدہ سے اسرائیل کا استثنیٰ ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست کو اس کے جنگی جرائم پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

گذشتہ ماہ جنیوا میں قائم اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل نے غزہ میں اسرائیل پر جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی تحقیقات شروع کی تھی۔واضح رہے کہ اسرائیل عالمی فوجداری عدالت کے قیام سے متعلق روم معاہدے کا رکن نہیں ہے۔اس لیے آئی سی سی ازخود اس کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات نہیں کرسکتی ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل قرار داد کی منظوری دے لیکن سلامتی کونسل میں امریکا اپنے اتحادی اسرائیل کے خلاف برسوں سے کسی بھی قرارداد کو ویٹو کرتا چلا آ رہا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سوموار کو امریکا سے اپیل کی تھی کہ وہ اسرائیلی فوج کو ایندھن کی منتقلی کا سلسلہ روک دے۔اس کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے بہت سے شواہد موجود ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو رکوانے کے لیے آئی سی سی کی تحقیقات اہمیت کی حامل ہیں۔تاہم اس تنظیم نے اپنے مطالبے میں توازن قائم کرنے کے لیے یہ بھی کہا تھا کہ فلسطینیوں نے بھی جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں