دہشت گردی عالمی وعلاقائی خفیہ اداروں نے پیدا کی: امام کعبہ

خطبہ جمعہ میں اہل غزہ کے عزم وہمت کو شاندار خراج تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مسجد حرام میں امام کعبہ الشیخ صالح بن حمید نے اسرائیلی جارحیت کے سامنے بے سرو سامانی کے عالم میں لڑنے والے فلسطینیوں کے عزم و ہمت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی عالمی اور علاقائی خفیہ اداروں کی پیداوار ہے۔

یاد رہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ خطبہ جمعہ میں امام کعبہ کی جانب سے روایتی موضوعات سے ہٹ کر عالمی دہشت گردی اور فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی جارحیت کو موضوع بنایا گیا۔

امام کعبہ نے مزید کہا کہ لمحہ موجود میں پوری دنیا انقلابات، تبدیلیوں، گروہی، علاقائی، نسلی، لسانی، مذہبی فتنوں اور ہمہ نوع خانہ جنگیوں کی لپیٹ میں ‌ہے۔ انسانیت کے دُشمن اس فتنہ وفساد کی آگ کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔ عرب خطے میں جاری لڑائیوں اور دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے عالمی خفیہ اداروں کے ہاتھ ہیں۔ اگرچہ پوری دنیا دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے مگر مسلمان ممالک کو ایک سازش کے تحت دہشت گردی کی چتا میں جھونکا جا رہا ہے۔

"دہشت گردی کا ناسور حقیقی معنوں میں عالم اسلام کے لیے نہایت تباہ کن ہے۔ اس نے اسلام کی اعتدال پسندانہ ساکھ کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اسی دہشت گردی نے مسلمانوں کو تقسیم کرکے رکھ دیا ہے۔ غربت و فاقہ، مایوسی اور تباہی وبربادی کی تمام شکلیں دہشت گردی کی پیداوار ہیں اور خود دہشت گردی عالمی اور علاقائی خفیہ اداروں کی دین ہے۔ یہی خفیہ ادارے دہشت گردوں کو مالی معاونت فراہم کرتے اور انہیں اسلحہ و جنگی سازمان مہیا کرتے ہیں۔ دہشت گردوں میں کئی ایسے گروپ ہیں جو دین حنیف میں مرضی کی تحریف کرتے ہوئے خود کو دین اسلام اور مسلمانوں کے کھلے دشمن ثابت کررہے ہیں"۔

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کی پہچان یہ ہے کہ وہ مسلمان معاشروں کو کافر قرار دیتے اور معصوم لوگوں کے قتل کو مباح سمجھتے ہیں۔ اس قسم کے فتنے نام نہاد عالمی امن معاہدوں اور امن کے ٹھیکیدار ملکوں کے پیدا کردہ ہیں۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ دنیا میں دو قسم کی دہشت گردی پائی جاتی ہے۔ ایک دہشت گردی جس کا ارتکاب مختلف گروپ اور تنظیمیں کرتی ہیں اور دوسری دہشت گردی جسے حکومتیں اور ممالک کی جانب سے کیا جاتا ہے۔

الشیخ صالح بن حمید نے مسلمان ملکوں میں جاری کشت وخون بالخصوص شام، عراق اور فلسطین میں نہتے مسلمانوں کے قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ انہوں‌ نے کہا کہ مسلمان جہاں کہیں بھی ظالم سے بر سر پیکار ہیں ان کی مدد نہیں کی جا رہی ہے۔ فلسطین اور شام کے مسلمانوں کو مظالم سے نجات دلانے کے لیے عالمی برادری کا کردار نہایت شرمناک ہے۔ فلسطین کے عوام اپنی آزادی اور بقاٰء کی جنگ لڑ رہے ہیں اور دنیا انہیں بھی دہشت گرد قرار دے رہی ہے۔

"شام میں ایک مخصوص گروپ نے اپنی سیاسی بالادستی کے لیے معصوم بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کا ریاستی میشنری کے ذریعے قتل عام روا رکھا ہوا ہے۔ عالمی برادری اس پر بھی خاموش تماشائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین میں ہونے والی دہشت گردی ملکوں اور حکومتوں کی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے۔

اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جس نے ارض فلسطین پر قبضہ کر رکھا ہے۔ وہاں کے بچوں، عورتوں اور ہر سطح کے شہریوں کو نہایت بے رحمی سے شہید کیا جا رہا ہے۔ فلسطین میں ہمارے بھائی اپنے حقوق اور آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کی جدو جہد آزادی برحق اور اس کے خلاف غاصب صہیونی ریاست کے حملے منظم ریاستی دہشت گردی ہیں۔ اسرائیلی ریاست اور ان عالمی دہشت گرد گروپوں کے مابین کوئی فرق نہیں جو معصوم شہریوں کو قتل کرنا، پوری کی پوری آبادیوں کو نیست ونابود کرنا اور ہر خشک و تر چیز کو تباہ کرنا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں۔"

امام کعبہ نے اپنی تقریر میں اہل غزہ کی صہیونی دشمن کی جارحیت کے مقابلے میں ان کے عزم کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اہل غزہ فتح مند ہو گئے اور اسرائیل شکست کھا چکا۔ غزہ کے عوام نے اسرائیل کی ریاستی طاقت کے استعمال کے جواب میں جس صبر کا مظاہرہ کیا ہے وہ فلسطینیوں کی فتح نصرت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں