امریکی صحافی رہائی کے بعد واپس گھر پہنچ گیا
پیٹر کرٹس تل ابیب کے راستے امریکا پہنچا ہے
شام میں انتہا پسندوں کے ہاتھوں گرفتار ہونے والا امریکی صحافی رہا ہونے کے دو دن بعد واپس امریکا پہنچ گیا ہے۔
پنتالیس سالہ پیٹر تھیوکرٹس امریکی صحافی کے اہل خانہ نے بوسٹن سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ کرٹس تل ابیب کے راستے نیو یارک پہنچ گیا ہے۔ جہاں سے بعد ازاں اپنی والدہ نینسی کرٹس کے ہمراہ بوسٹن پہنچ گیا ہے۔
کرٹس نے اپنی رہائی پر امریکی حکام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس کی رہائی کے لیے غیر معمولی کوششیں کیں۔ واضح رہے ایک ہفتہ پہلے ایک امریکی صحافی جیمز فولے کو شام میں انتہا پسندوں نے ہلاک کر دیا تھا۔
جیمز فولے کو 2012 میں اس وقت اغواء کیا گیا تھا جب وہ شامی خانہ جگی کی کوریج کے لیے شام میں موجود تھا۔ اس کی ہلاکت کی ویڈیو داعش نے اپ لوڈ کی تھی۔
رہائی پانے والے امریکی صحافی پیٹر کرٹس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے النصرہ فرنٹ نے حراست میں لیا تھا۔ خیال رہے النصرہ فرنٹ سنی انتہا پسندوں کا گروپ ہے، جو شامی رجیم کے خلاف سرگرم ہے
-
'داعش' سے فولی کے قتل کا بدلہ لیں گے: اوباما
امریکی مشن کی تکمیل ممکن کیسے ہو گی؟
ایڈیٹر کی پسند -
شام دہشت گردی مخالف جنگ میں دنیا سے تعاون کو تیار
امریکا اور برطانیہ کو داعش اور دوسرے گروہوں کے خلاف لڑائی میں تعاون کی پیش کش
مشرق وسطی -
امریکی صحافی فولی کا برطانوی جنگجو نے سرقلم کیا؟
داعش کے سابق یرغمالی نے فولی کے برطانوی قاتل کو شناخت کرلیا
بين الاقوامى