عمرہ ویزے والی فرموں پرسخت قدغنیں عاید

زائرین کے زائدالمیعاد قیام پر فرموں کے کمپیوٹر سسٹم بلاک ہوجائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب نے زائرین عمرہ اور مسجد نبوی کے لیے نئے قواعد وضوابط جاری کیے ہیں جن کے تحت عمرے کی خدمات مہیا کرنے والی ایسی تمام کمپنیوں کے کمپیوٹر سسٹمز کو بلاک کردیا جائے گا جن کے بھیجے ہوئے عمرہ زائرین ویزے سے زیادہ مدت سعودی مملکت میں قیام کریں گے۔

یہ فیصلہ سعودی ولی عہد ،نائب وزیراعظم اور وزیردفاع شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز کے زیر صدارت وزارتی کونسل کے ہفتہ وار اجلاس میں کیا گیا ہے۔شہزادہ سلمان نے وزارت داخلہ اور حج کو ہدایت کی ہے کہ اس حکم نامے پر عمل درآمد کرایا جائے۔

وزیرثقافت اور اطلاعات عبدالعزیز خوجہ نے کابینہ کے اجلاس کے بعد سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا ہے کہ کابینہ نے ویزے کے لیے نئے قواعد وضوابط کا جائزہ لینے کے بعد ان کی منظوری دی ہے۔

کابینہ نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ سعودی عرب میں قیام سے متعلق قانون کی دفعہ 60 کی خلاف ورزی کی مرتکب عمرہ کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرے۔ان کے علاوہ عمرے کے ویزے کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں یا عمرے کی ادائی کے علاوہ کسی اور پروگرام کا پرچار کرنے والی کمپنیوں کے خلاف بھی اس قانون کے تحت کارروائی کی جاسکے گی۔عمرے کے علاوہ مسجد نبوی کے زائرین کے لیے بھی قواعد وضوابط میں ترامیم کی گئی ہیں۔

وزارتی کونسل نے اقتصادی امور اور منصوبہ بندی کی وزارت کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کے جائزے کے بعد سعودی مملکت کے دسویں ترقیاتی منصوبے کے عمومی مقاصد کی بھی منظوری دی ہے۔قبل ازیں شوریٰ کونسل نے 23 جون کو ان کی توثیق کی تھی۔وزیراطلاعات عبدالعزیز خوجہ کے بہ قول ان مقاصد میں سب سے اہم اسلامی اقدار وتعلیمات کا تحفظ ،قومی اتحاد اور سعودی ممکت کی شناخت کو مضبوط بنانا ہے۔

عبدالعزیز خوجہ نے مزید بتایا کہ کابینہ نے خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کو مسلم اُمہ کے امور میں گہری دلچسپی لینے اور اس ضمن میں نمایاں کردار ادا کرنے پر مبارک باد پیش کی ہے۔سعودی کابینہ نے شامی بحران کے حل اور شامی عوام کے مصائب کو کم کرنے کے لیے عالمی برادری کی جانب سے کوئی فیصلہ کن اقدام نہ کرنے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں ایک لاکھ اکانوے ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور اس سے دُگنا تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔

سعودی مملکت نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اپنے موقف کا اعادہ کیا ہے اور دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے اسلام کے نام پر انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی ہے۔کابینہ نے گذشتہ چھے ماہ کے دوران ایک ارب اسی کروڑ ریال مالیت کی منشیات اسمگل کرنے کی کوششیں ناکام بنانے اور اس دھندے میں ملوث ایک ہزار ایک سو ستانوے افراد کی گرفتاریوں پر سکیورٹی ایجنسیوں کے کردار کو سراہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں