.

"ایک امریکی مارو، جنت میں 144حوریں ملیں گی"

داعش کے سوڈانی مبلغ کا اسلامی تعلیمات سے صریح انحراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں اپنی مخصوص شریعت کے نفاذ کے لیے کوشاں دہشت گرد گروپ "داعش" کو دنیا بھر میں ایسے ہم خیال علماء سوء بھی فراوانی کے ساتھ میسر ہیں جو جہاد جیسے مقدس فریضہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے قرآن کریم اور احادیث رسول میں کھلے عام تحریف سے بھی نہیں چوکتے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دیگر ممالک کی طرح سوڈان میں بھی داعش کو اپنے ہمنوا مبلغین مل گئے ہیں۔ ایسے ہی ایک خود ساختہ عالم دین نے چند ہفتے قبل منبر رسول سے 'وعظ' کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نماز تراویح اپنے ملک میں نہیں ہو سکتی بلکہ انہیں نماز تراویح کے لیے بغداد جانا پڑے گا۔

اب موصوف ایک قدم اور آگے بڑھ گئے اور کہتے ہیں کہ 'جو شخص ایک امریکی کو قتل کرے گا اس کے بدلے میں وہ جنت میں 144 حوریں پائے گا۔ نیز وہ اس کے بدلے میں اپنے خاندان کے 140 افراد کی شفاعت بھی کر سکے گا'۔ مقام حیرت ہے کہ سوڈانی مبلغ کے نزدیک امریکی اور غیر امریکی کے قتل کی آخرت میں جزاء بھی مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی مسلمان کسی غیر امریکی کو قتل کر دے تو وہ 72 حوروں کا مستحق ہو گا اور اپنے خاندان کے 70 افراد کو جنت میں ساتھ لے جائے گا۔

سوڈانی علامہ صاحب کے نزدیک امریکی یا دوسرے غیر مسلموں کے قتل عام میں فوجی، غیر فوجی، خواتین، بچوں اور عام شہریوں میں کوئی فرق نہیں۔ سب برابر ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ وہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ یہ دعویٰ بھی کر رہا ہے کہ [نعوذ باللہ] یہ سب نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ من گھڑت اور جھوٹ باتیں منسوب کرنے والے بزعم خویش علامہ صاحب کو کوئی وہ نصیحت یاد دلائے جو خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق اسامہ بن زید کی قیادت میں ایک اسلامی لشکر کو روانہ کرنے سے قبل ارشاد فرمائی تھی، جس میں آپ نے واضح الفاظ میں دس اہم باتوں کی ہدایت کی تھی کہ "خیانت نہ کرنا، غلو سے پرہیز، غدر سے اجتناب کرنا، کسی لاش کا مثلہ نہ بنانا، بچے، بوڑھے اور عورت پر تلوار نہ اٹھانا، کھجوروں کے درخت کاٹنا اور نہ انہیں آگ لگانا، پھل دار پودوں کو نقصان نہ پہنچانا، بلا ضرورت کسی گائے، بکری یا اونٹ کو ذبح نہ کرنا"۔