شام میں امریکی حملے کی تصاویر اور فوٹیج جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں دولت اسلامی کے مراکز پر منگل کے روز امریکا اور اس کے اتحادیوں کے پہلے فضائی حملے کا ہدف بننے والے مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کی گئی ہیں۔

یہ تصاویر اور فوٹیج امریکی وزارت دفاع "پینٹاگون" کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر اس کے آفیشل اکاونٹس پر جاری کی گئی ہیں۔ وزارت دفاع نے ایک مختصر ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ان کے پاس کارروائی میں عام شہریوں کے مارے جانے کی مصدقہ معلومات نہیں ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے گذشتہ روز شام کے شہر الرقہ اور حلب میں عسکریت پسند گروپوں کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا تاہم ان میں صرف دو اہم اہداف کی تباہی سے قبل اور بعد کی تصاویر جاری کی گئی ہیں۔ تصاویر کے علاوہ محکمہ دفاع نے اس امر کی کوئی وضاحت نہیں کی کہ جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا وہ کتنے اہمیت کے حامل تھے، کن کن گروپوں کے ٹھکانے تھے۔ نیز ان کا محل وقوقع کیا ہے؟

ایک تصویر میں دکھائی گئی عمارت کو "ٹوماہاک"میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ اس کثیرالمنزلہ عمارت کے بارے میں پینٹاگون کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک شدت پسند گروپ کا "فنانس ہیڈکواٹرز" تھا تاہم دوسری تصویر میں تباہ کیے گئے مراکز کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

اس کے علاوہ امریکی حکام کی جانب سے جاری دو ویڈیو فوٹیجز میں بھی دو الگ الگ اہداف کو دکھایا گیا ہے۔ یہ دونوں ویڈیوز العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بھی موصول ہوئی ہیں۔ دونوں فوٹیجز میں حملے کا نشانہ بننے والی عمارتوں کے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکی ہیں اور نہ ہی یہ پتا چلا ہے کہ یہ عمارتیں کس تنظیم کے استعمال میں تھیں۔ البتہ اتنا کہا گیا ہے کہ حکام جلد ہی ان کے بارے میں ‌مزید تفصیلات بھی جاری کریں‌ گے۔

پینٹاگون کے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ جاری کردہ تصاویر اور ویڈیوز میں دکھائے گئے مقامات شام کے شمالی شہر الرقہ میں داعش، النصرہ فرنٹ اور خراسان نامی گروپوں کے ٹھکانے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں