امریکہ میں دفاعی تیاریوں میں تیزی، ٹرمپ نے پینٹاگون اور اسلحہ ساز کمپنیوں کو طلب کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہفتے وائٹ ہاؤس میں وزارتِ دفاع (پینٹاگون) کے اعلیٰ حکام اور دفاعی صنعت کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان کا اجلاس طلب کر لیا ہے، جس کا مقصد میزائلوں اور گولہ بارود کی پیداوار میں تیزی لانا ہے۔

یہ اقدام ایران کے ساتھ حالیہ تنازع کے دوران بڑے پیمانے پر استعمال کے باعث امریکی ذخائر میں کمی کے خدشات کے پیشِ نظر کیا جا رہا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یہ اجلاس پہلے جون کے وسط میں ہونا تھا، تاہم ایران کے ساتھ جنگ بندی پر منتج ہونے والے مذاکرات کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔

توقع ہے کہ اجلاس میں پینٹاگون کے سینئر حکام کے علاوہ دفاعی شعبے کی معروف کمپنیوں لاکھیڈ مارٹن، آر ٹی ایکس (ریتھیون)، بوئنگ، نارتھروپ گرومن اور ہنی ویل کے چیف ایگزیکٹو افسران بھی شریک ہوں گے۔

اجلاس میں خاص طور پر پیٹریاٹ دفاعی نظام کے انٹرسیپٹر میزائلوں، ٹوماہاک میزائلوں اور دیگر دفاعی نظاموں، جیسے تھاڈ (THAAD) اور پریسم (PrSM) کی پیداوار میں تیزی لانے پر غور کیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق پینٹاگون ان کمپنیوں کے ساتھ ابتدائی معاہدے کر چکا ہے، تاہم پیداوار میں بڑے پیمانے پر اضافے کے لیے اب بھی کانگریس سے مالی منظوری درکار ہے۔

اندازہ ہے کہ پینٹاگون اس توسیعی منصوبے کی حمایت کے لیے مالی سال 2027 کے بجٹ میں بھاری فنڈز کی درخواست کرے گا۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ صدر ٹرمپ اس سے قبل دفاعی پیداوار کو تیز کرنے کے لیے ڈیفنس پروڈکشن ایکٹ (Defense Production Act) بھی نافذ کر چکے ہیں، تاکہ فوجی ساز و سامان کی پیداوار میں آسانی پیدا کی جا سکے۔

یہ اقدام امریکی اسلحہ ذخائر میں کمی کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے۔سنٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کے تجزیوں کے مطابق ایران کے خلاف کارروائیوں کے دوران درست نشانہ لگانے والے میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کے ذخائر کا بڑا حصہ استعمال ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی فوجی تیاری (military readiness) متاثر ہونے کے خدشات سامنے آئے ہیں۔ترامب يستدعي قادة البنتاغون وشركات الدفاع لتسريع إنتاج الصواريخ

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں