شام میں امریکی حملے کی تصاویر اور فوٹیج جاری
شام میں دولت اسلامی کے مراکز پر منگل کے روز امریکا اور اس کے اتحادیوں کے پہلے فضائی حملے کا ہدف بننے والے مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کی گئی ہیں۔
یہ تصاویر اور فوٹیج امریکی وزارت دفاع "پینٹاگون" کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر اس کے آفیشل اکاونٹس پر جاری کی گئی ہیں۔ وزارت دفاع نے ایک مختصر ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ان کے پاس کارروائی میں عام شہریوں کے مارے جانے کی مصدقہ معلومات نہیں ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکی جنگی طیاروں نے گذشتہ روز شام کے شہر الرقہ اور حلب میں عسکریت پسند گروپوں کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا تاہم ان میں صرف دو اہم اہداف کی تباہی سے قبل اور بعد کی تصاویر جاری کی گئی ہیں۔ تصاویر کے علاوہ محکمہ دفاع نے اس امر کی کوئی وضاحت نہیں کی کہ جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا وہ کتنے اہمیت کے حامل تھے، کن کن گروپوں کے ٹھکانے تھے۔ نیز ان کا محل وقوقع کیا ہے؟
ایک تصویر میں دکھائی گئی عمارت کو "ٹوماہاک"میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ اس کثیرالمنزلہ عمارت کے بارے میں پینٹاگون کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک شدت پسند گروپ کا "فنانس ہیڈکواٹرز" تھا تاہم دوسری تصویر میں تباہ کیے گئے مراکز کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
اس کے علاوہ امریکی حکام کی جانب سے جاری دو ویڈیو فوٹیجز میں بھی دو الگ الگ اہداف کو دکھایا گیا ہے۔ یہ دونوں ویڈیوز العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بھی موصول ہوئی ہیں۔ دونوں فوٹیجز میں حملے کا نشانہ بننے والی عمارتوں کے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکی ہیں اور نہ ہی یہ پتا چلا ہے کہ یہ عمارتیں کس تنظیم کے استعمال میں تھیں۔ البتہ اتنا کہا گیا ہے کہ حکام جلد ہی ان کے بارے میں مزید تفصیلات بھی جاری کریں گے۔
پینٹاگون کے ایک مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ جاری کردہ تصاویر اور ویڈیوز میں دکھائے گئے مقامات شام کے شمالی شہر الرقہ میں داعش، النصرہ فرنٹ اور خراسان نامی گروپوں کے ٹھکانے تھے۔
-
داعش مخالف مشن، کیری کی عرب لیڈروں سے مشاورت
روس نے شام میں امریکا کے فضائی حملوں کی مخالفت کر دی
بين الاقوامى -
شام کیمیائی ہتھیار اسلامی جنگجووں کے ہاتھ نہ لگیں: امریکا
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر نے اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا
مشرق وسطی -
شام میں امریکا کی خفیہ فوجی کارروائی کا انکشاف
مقصد گرفتار امریکیوں کو عسکریت پسندوں سے رہائی دلانا تھا
مشرق وسطی