.

یو اے ای:ترک صدر کی مصر مخالف تقریر کی مذمت

السیسی پر تنقید،مصری وزیرخارجہ کی ترک ہم منصب سے ملاقات منسوخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی پر کڑی تنقید کی مذمت کردی ہے اوران کی تقریر کو غیر ذمے دارانہ اور مصر کے داخلی امور میں ننگی مداخلت قراردیا ہے۔

یو اے ای کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم جمہوریہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے عرب جمہوریہ مصر سے متعلق بیان پر حیران رہ گئے ہیں۔انھوں نے مصر پر حملے کے لیے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کا غلط استعمال کیا ہے''۔

بیان میں ترک صدر پر زوردیا گیا ہے کہ ''وہ مصری حکومت اور عوام کے خلاف گالیاں دینا بند کردیں''۔رجب طیب ایردوآن نے عالمی لیڈروں کے سالانہ اجتماع سے اپنے خطاب میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی کو ملک کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر محمد مرسی کو برطرف کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ان کے اس اقدام پر عالمی برادری کی خاموشی پر بھی کڑی نکتہ چینی کی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ''ایک مرتبہ پھر عراق ،شام میں ہلاکتوں اور مصر میں جمہوریت کے قتل کا جن پر الزام تھا،وہی بعض غیر منصفانہ اور بے بنیاد الزامات عاید کررہے ہیں اور انہی پر دہشت گردی کی حمایت کا بھی الزام ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اقوام متحدہ کے علاوہ جمہوری ممالک نے کچھ بھی نہیں کیا اور وہ مصر میں ایک منتخب صدر کو اقتدار سے نکال باہر کیے جانے کا عمل اور اپنے انتخاب کے دفاع میں ہزاروں بے گناہ افراد کو قتل ہوتے ہوئے دیکھتے رہے ہیں اور جس شخص نے یہ بغاوت کی تھی،اس کو جائز صدر بنتے ہوئے ملاحظہ کرتے رہے ہیں''۔

مصر کی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں طیب ایردوآن کے صدر عبدالفتاح السیسی کے بارے میں اس بیان کو مسترد کردیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ''بلاشبہ ترک صدر کی جانب سے یہ من گھڑت جھوٹ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہیں کیونکہ وہ دہشت گرد تنظیموں اور گروہوں کی حمایت کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں افراتفری اور تقسیم کے بیج بونے کے دلدادہ رہے ہیں''۔

بیان کے مطابق ترک صدر کی تندوتیز تنقید کے بعد مصری وزیرخارجہ سامح شکری نے جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اپنے ترک ہم منصب سے طے شدہ ملاقات منسوخ کردی ہے۔ترک لیڈر ماضی میں بھی متعدد مواقع پر مصر کی مسلح افواج کے سابق سربراہ اور اب منتخب صدر عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں ڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کی برطرفی کی مخالفت کرچکے ہیں اور ان کے سخت بیانات کی وجہ سے مصر اور ترکی کے درمیان دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی پائی جارہی ہے۔