.

نوازشریف اور 10 حکام کے خلاف قتل کا مقدمہ

30 اگست کو پُرتشدد واقعات میں تین افراد کی ہلاکتوں پر ایف آئی آر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تھانہ سیکریٹریٹ میں وزیراعظم میاں نواز شریف ،ان کے بھائی وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف ،وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان اور آٹھ دیگر اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف 30 اگست کو تین سیاسی کارکنان کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

یہ تینوں سیاسی کارکنان اسلام آباد کے علاقے ریڈ زون میں دھرنا دینے والی دو جماعتوں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے کارکنان کے وزیراعظم ہاؤس اور پارلیمینٹ پر چڑھائی کے دوران تشدد کے واقعات میں ہلاک ہو گئے تھے۔ان دونوں جماعتوں نے گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے اسلام آباد میں وزیراعظم میاں نوازشریف کی حکومت کے خلاف دھرنا دے رکھا ہے اور وہ گذشتہ سال منعقدہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے خلاف احتجاج کررہی ہیں۔

پی ٹی آئی نے اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت میں ان کارکنوں کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کے لیے درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت کے جج نے وزیراعظم اور دس دوسرے عہدے داروں کے خلاف قتل ،اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت ابتدائی اطلاعی رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرنے کا حکم دیا تھا۔

پی ٹی آئی نے عدالت کے حکم کے بعد آج سوموار کو تھانہ سیکریٹریٹ میں جن اعلیٰ حکومتی اور انتظامی عہدے داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے،ان میں وزیراعظم ،وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیرداخلہ کے علاوہ وزیردفاع خواجہ محمد آصف ،وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ،انسپکٹر جنرل پولیس اسلام آباد ،ڈپٹی کمشنر اسلام آباد ،انسپکٹر جنرل پولیس ریلویز اور تین دوسرے عہدے دار شامل ہیں۔

30 اگست کو پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے کارکنان نے وزیراعظم ہاؤس کی جانب چڑھائی کی کوشش کی تھی اورپارلیمنٹ پر دھاوا بول دیا تھا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں روکنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے۔اس دوران ایک کارکن بارشی پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا تھا اور دو گولیاں لگنے سے ہلاک ہوئے تھے جبکہ متعدد افراد اشک آور گیس کی شیلنگ اور ربر کی گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے تھے۔

پی ٹی آئی نے ان مظاہرین کی ہلاکتوں کے چند روز بعد ایف آئی آر درج کرانے کی درخواست دی تھی لیکن پولیس کے انکار کے بعد انھوں نے ضابطہ فوجداری کی شق 22 اے کے تحت ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت سے مقدمے کے اندراج کے لیے رجوع کیا تھا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم میاں نواز شریف ،وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ،وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان ،وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق اور دیگر کے خلاف قبل ازیں جون میں ماڈل ٹاؤن لاہور میں پولیس کے ساتھ تصادم میں عوامی تحریک کے چودہ کارکنان کی ہلاکتوں کا مقدمہ بھی درج کیا جاچکا ہے۔