مراکش میں 12 سال کے دوران 2676 دہشت گرد گرفتار کیے گئے
رہا ہونے والے 266 دوبارہ دہشتگردی کے مرتکب
افریقا کے اہم عرب ملک مراکش کے حکام کا کہنا ہے کہ پچھلے بارہ سال کے دوران دہشت گردی کے مرتکب 2676 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ تفیتش کے بعد ان میں سے بعض کو رہا کیا گیا مگر رہائی پانے والے 266 افراد دوبارہ دہشت گردی میں ملوث ہو گئے تھے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں انسداد دہشت گردی کانفرنس میں مراکش کے انٹیلی جنس چیف محمد یاسین منصوری نے بتایا کہ سنہ 2002ء کے بعد سے آج تک مراکش میں 02 ہزار 676 افراد کو دہشت گردی کے الزامات کے تحت پکڑا گیا۔ ان میں سے بعض کے خلاف طویل مقدمات چلائے گئے اور وہ ابھی تک جیلوں میں قید ہیں تاہم کچھ لوگوں کو چھوڑ دیا گیا تھا۔
یاسین منصوری نے بتایا کہ پولیس اور خفیہ اداروں کے مشترکہ آپریشن میں مراکش میں سرگرم 126 خفیہ سیلز کا پتا چلا کر ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ان میں 41 گروپ شام اور عراق میں کشیدگی کے بعد منظرعام پر آئے تھے۔ پولیس نے بروقت کارروائی کر کے دہشت گردی کی 276 منصوبے ناکام بنائے۔ ان میں 119 منصوبے بم دھماکوں کے ذریعے عمل میں لائے جانے کی کوشش کی گئی تھی جن میں سیکیورٹی فورسز اور سرکاری تنصیبات کے علاوہ مسیحی برادری کے مقدس مقامات اور یہودی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا جانا تھا۔
مراکش انٹیلی جنس چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے اپنی کارروائیوں کےدوران 109 اہم شخصیات کو قاتلانہ حملوں میں ہلاک کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی، جسے ناکام بنا دیا گیا جبکہ اغواء برائے تاوان کی بھی سات کوششیں ناکام بنائی گئیں۔
مراکش کے ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس محمد یاسین المنصوری نے بتایا کہ ان کا ملک سنہ 2001ء میں دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد کا حصہ بنا تو دیگر ممالک کی طرح رباط بھی القاعدہ کے دہشت گردی کی لپیٹ میں آ گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مراکش کا انسداد دہشت گردی اتحاد کا حصہ بننے کے بعد القاعدہ کی سرگرمیوں میں غیرمعمولی اضافہ ہو گیا۔ مئی 2002ء میں پولیس نے رباط سے تین غیرملکی مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کیا۔ دوران تفتیش انہوں نے بتایا کہ وہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے زیراستعمال بحری جہازوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 2005ء میں مراکشی حکام نے مغرب اسلامی کی طرف سے آنے والیے دہشتگردوں کے ایک نیٹ ورک کو پکڑا۔ یہ تمام افراد "المرابطون" نامی ایک گروپ سے منسلک تھے جو مراکش میں اہم شخصیات کو دہشت گردی کے حملوں میں ہلاک کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ سنہ 2009ء میں یہ گروپ مغربی صحارا کے علاحدگی پسند گروپ"بولیساریو میں شام ہو گیا تھا۔ خیال رہے کہ بولیساریو فرنٹ مغربی صحارا کی مراکش سے علاحدگی کی تحریک چلا رہا ہے۔