20 ملکی فوجی قیادت کا داعش کے خلاف اقدام پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

دولت اسلامی کے خلاف عالمی اتحاد تشکیل دینے کی غرض سے 20 ملکوں کی مسلح افواج کے سربراہان کا بین الاقوامی اجلاس امریکا میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ غیر معمولی اجلاس واشنگٹن کے قریب اینڈریو ائر بیس پر ہو گا۔

اجلاس کے بارے میں بات کرتے ہوئے پینٹاگان کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اس میں آسٹریلیا سمیت ان تمام ملکوں کے فوجی سربراہاں شریک ہوں گے جو داعش کے خلاف عالمی اتحاد میں شریک ہیں۔ داعشی اہداف پر حملوں کے نگران امریکی سینٹرل کمان کے سربراہ جنرل لائیڈ آسٹن اجلاس میں رپورٹ پیش کریں گے۔

یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے کہ جب امریکی صدر براک اوباما سمیت متعدد امریکی عہدیدار اپنے بیانات میں اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ داعش کے خلاف جنگ میں بہت زیادہ وقت صرف ہو سکتا ہے۔ "اس انتہاء پسند تنظیم کی بیخ کنی کا مشکل عمل راتوں رات مکمل نہیں ہو سکتا۔"

ادھر امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک شام میں داعش کے زیر نگین کرد اکثریتی علاقے عین العرب [کوبانی] کی بحرانی صورتحال پر انتہائی پریشان ہے۔

اس سے پہلے جان کیری یہ بیان دے چکے ہیں کہ داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کو عراق میں تنظیم کے ٹھکانوں کو پہلا ہدف بنانا چاہئے۔ شام میں 'داعش' کے پیروکاروں میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا کہ ساٹھ سے زیادہ 'پارٹنرز' نے داعش کو شکست دینے کی امریکی کوششوں میں ساتھ دینے کا وعدہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں