یوکرین کا ماسکو پر ڈرونز اور میزائل سے بڑا حملہ، اہم آئل ریفائنری نذر آتش

یہ ریفائنری روسی دارالحکومت کی ایندھن ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرتی ہے اور اسے سٹریٹجک اہمیت حاصل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے۔ یوکرین نے ڈرون حملوں کے ذریعے ماسکو کی ایک اہم آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا، جبکہ روس نے بھی یوکرین کے دارالحکومت کیف سمیت مختلف علاقوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

روسی وزارت دفاع کے مطابق گذشتہ رات یوکرین نے مختلف روسی علاقوں پر سینکڑوں ڈرونز کے ذریعے حملے کیے۔ روسی فضائی دفاعی نظام نے 555 یوکرینی ڈرونز کو تباہ کیا، جن میں سے تقریباً 200 ڈرون ماسکو کی جانب بڑھ رہے تھے۔ ماسکو کے میٔر سرگئی سوبیانن نے تصدیق کی کہ متعدد ڈرونز ماسکو کی ایک آئل ریفائنری تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے، جس کے باعث وہاں آگ بھڑک اٹھی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک شاپنگ سینٹر کو بھی معمولی نقصان پہنچا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ ایک ہفتے کے دوران ماسکو کی اس اہم آئل ریفائنری پر دوسرا حملہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ریفائنری روسی دارالحکومت کی ایندھن ضروریات کا بڑا حصہ پورا کرتی ہے اور اسے اسٹریٹجک اہمیت حاصل ہے۔ادھر ماسکو کے نواحی علاقوں میں بھی ڈرون حملوں کے باعث ایک رہائشی عمارت، صنعتی تنصیبات اور متعدد مکانات کو نقصان پہنچا۔ حملوں کے بعد ماسکو کے مصروف ترین شیرمیتیوو ایٔرپورٹ پر پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں اور مسافروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

دوسری جانب یوکرین نے الزام لگایا ہے کہ روس نے کیف پر ایک بار پھر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا۔ یوکرینی حکام کے مطابق رات بھر میں 239 ڈرونز اور 7 بیلسٹک میزائل داغے گئے، جن میں سے بیشتر کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔شمال مشرقی یوکرینی شہر سومی میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہونے کی بھی اطلاع ہے۔

ماسکو میں لگی آگ: رائیٹَرز
ماسکو میں لگی آگ: رائیٹَرز

یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور یورپی ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور جی 7 ممالک کے دیگر رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔ جی 7 ممالک نے یوکرین کے فضائی دفاع کو مزید مضبوط بنانے اور روس پر معاشی دباؤ بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ادھر صدر ٹرمپ کا یہ بیان سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا کہ وہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ زیلنسکی کے مطابق انہیں جی 7 ممالک کی جانب سے فضائی دفاعی میزائلوں، ان کی مقامی پیداوار کے لائسنس اور موسم سرما کے لیے امدادی پیکج کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

یوکرین کے حملے کے بعد ماسکو میں آئل ریفائنری سے دھواں اٹھ رہا ہے۔: رائیٹرز
یوکرین کے حملے کے بعد ماسکو میں آئل ریفائنری سے دھواں اٹھ رہا ہے۔: رائیٹرز

روس اور یوکرین کے درمیان چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ میں حالیہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ امن مذاکرات کی کوششوں کے باوجود میدان جنگ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں