سائنسدانوں نے 400 برس قبل دفن آدمی کے حیران کن رازوں سے پردہ اٹھا دیا

تحقیق میں فن لینڈ میں سامی باشندوں کے ساتھ جینیاتی تعلقات اور قابلِ ذکر حد تک متحرک زندگی کے ثبوت سے پردہ اٹھایا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ٹورکو یونیورسٹی اور اس کے شراکت داروں کی جانب سے کی گئی ایک نئی تحقیق نے 16ویں اور 17ویں صدی کے آغاز میں فن لینڈ کے علاقے کوسامو میں جھیل کٹکا کے قریب دفن کیے گئے ایک شخص کے بارے میں نئی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔

ویب سائٹ ’’ سائی ٹیک ڈیلی ‘‘کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق ڈی این اے اور آلسوٹوپ کے تجزیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص موجودہ سامی باشندوں سے گہرا تعلق رکھتا تھا اور وہ اپنی موت سے کچھ ہی عرصہ قبل اس علاقے میں آیا تھا۔

4 صدی قبل

تحقیق کرنے والی ٹیم نے ایک ایسے شخص کے ڈی این اے اور آئسوٹوپ کا تجزیہ کیا جس کی قبر 1970 کی دہائی میں جھیل کٹکا کے قریب دریافت ہوئی تھی۔ یہ نتائج تقریباً چار صدیاں پہلے رہنے والے ایک شخص کی زندگی کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔ اس شخص ، جو وفات کے وقت تقریباً 40 برس کا تھا، کے دانتوں سے حاصل کردہ ڈی این اے کا موازنہ پہلے سے مطالعہ کیے گئے قدیم اور جدید جینومز سے کیا گیا۔

تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس کا جینیاتی نقشِ قدم تاریخی اور ہم عصر دونوں سامی باشندوں سے کافی حد تک میل کھاتا ہے۔ وہ موجودہ دور کے فن لینڈ کے باشندوں، خاص طور پر شمالی اور شمال مشرقی لیپ لینڈ کے رہنے والوں کے ساتھ بھی ڈی این اے کے چھوٹے حصے شیئر کرتا ہے، جبکہ کوسامو اور جنوبی فن لینڈ کے باشندوں کے ساتھ اس کے جینیاتی تعلقات کمزور دکھائی دیتے ہیں۔

موجودہ دور کے سامی باشندے

سامی قوم کے لوگ شمالی یورپ کے متعدد ممالک کے شمالی خطے کے باشندے ہیں جسے وہ اپنے ہاں "سابمی" کے نام سے جانتے ہیں اور یہ خطہ اس وقت شمالی سویڈن، ناروے، فن لینڈ اور روس کے جزیرہ نما کولا کا حصہ ہے۔ ٹورکو یونیورسٹی کی خاتون محققہ سانی پیلتولا کہتی ہیں کہ جب کٹکا کے فرد کے بجائے موازنے کے لیے موجودہ دور کے سامی باشندوں کو استعمال کیا جائے تو اسی طرح کا پیٹرن سامنے آتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ نتائج سامی باشندوں اور فن لینڈ کے لوگوں کے درمیان ایک وسیع تر تاریخی تعامل اور اختلاط کی عکاسی کرتے ہیں۔

ایک تاریخی، ثقافتی اور سماجی مظہر

پیلتولا نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ قدیم ڈی این اے محققین کو آبادی کی تاریخ کا سراغ لگانے میں مدد دے سکتا ہے لیکن اسے کسی شخص کی نسل یا شناخت کا تعین کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ کٹکا کے مدفن نے جینیاتی شجرہ نسب کے ماہرین کی بھی بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔ لیکن محققین نے یہ کہا ہے کہ ڈی این اے کے شواہد کسی ایسے شخص کو جو بہت عرصہ پہلے زندہ تھا موجودہ دور کے مخصوص خاندانوں یا افراد سے معتبر طریقے سے نہیں جوڑ سکتے۔

شناخت کا تعین نہیں

ڈی این اے کے نتائج قیمتی بصیرت فراہم کرتے ہیں لیکن یہ شناخت کا تعین نہیں کرتے کیونکہ اس شخص کے دانتوں میں آئسوٹوپ کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی موت سے کچھ ہی عرصہ قبل کوسامو پہنچا تھا۔ اس کے بچپن کے دوران اس کی خوراک میں جنگلی جانور، میٹھے پانی کی مچھلیاں اور سمندری غذا شامل تھی۔

بعد میں سمندری وسائل زیادہ اہم ہو گئے۔ میٹھے پانی کی مچھلیاں، جو کوسامو کے علاقے میں خوراک کا ایک اہم ذریعہ ہیں، اس کی غذا سے غائب ہو گئیں۔ پینے کے پانی سے متعلق آئسوٹوپک نقشِ قدم بھی یہ اشارہ کرتے ہیں کہ اس نے اپنی جوانی کے سال ایک ایسے علاقے میں گزارے جس کی ارضیاتی خصوصیات فن لینڈ کی خصوصیات سے بالکل مختلف تھیں۔

سماجی کرداروں میں تضاد

ٹورکو یونیورسٹی کی اہم محققہ اولا نورڈفورس کہتی ہیں کہ سب سے زیادہ امکانی جگہ شمالی بحرِ اوقیانوس میں آتش فشاں چٹانوں والا علاقہ ہے جس کے بارے میں گمان ہے کہ وہ آئس لینڈ ہے۔ اس تشریح کو 16ویں صدی کے دوران سکینڈینیوین شمالی فن لینڈ اور شمالی بحرِ اوقیانوس کے درمیان رابطوں کے تاریخی شواہد سے بھی تقویت ملتی ہے۔ نورڈفورس کہتی ہیں کہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاریخی سامی معاشرے اور ان کے سماجی کردار ان تصاویر سے میل نہیں کھاتے جو قدیم تر مطالعات میں پیش کی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں