امریکا: کریڈٹ کارڈ ہولڈر اوباما بھی فراڈیوں کے نشانے پر
اوباما اہلیہ کے ساتھ کھانا کھانے گئے تھے، ایک سال میں سوملین شکار
امریکا میں کریڈٹ کارڈز استعمال کرنے والے صارفین کے ساتھ دھوکہ بازی میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکی صدر بھی ایسی واردات کا نشانہ بنا دیے گئے۔ کریڈٹ کے کھاتے میں ایک سال کے دوران ایک سوملین امریکیوں کے ساتھ فراڈ ہو گیا۔
تفصیلات کے مطابق امریکی صدر براک اوباما کا کریڈٹ کارڈ اس وقت کام نہ آسکا جب وہ پچھلے ماہ امریکی خاتون اول کے ساتھ نیو یارک کے ایک ہوٹل میں کھانے گئے تھے۔
امریکی صدر نے کریڈٹ کارڈ کے استعمال میں نہ آ سکنے پر کہا '' لگتا ہے میں نے اسے زیادہ استعمال نہیں کیا ہے، اس لیے یہ واپس باہر آ گیا۔''
امریکی صدر کی ذمہ داریوں میں ایسے لمحات کم ہوتے ہیں کہ تعطیلات کے علاوہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ خوشگوار انداز میں نجی طور پر کہیں گھوم پھر سکیں۔ لیکن نیو یارک میں اس طرح کی ایک کوشش میں کریڈٹ کارڈ حائل ہوتا نظر آیا۔
امریکی صدر اس مقصد کے لیے اپنی اہلیہ مشعل اوباما کے ساتھ'' بِگ ایپل'' پر عشائیے کے لیے آئے تھے۔ صدر نے کہا اچانک کریڈٹ کارڈ کے جواب دے جانے پر صارفین کے لیے قائم مالی تحفظ کے کے بیورو میں کہا '' لگتا ہے کچھ فراڈ ہو رہا ہے ۔''
امریکی صدر نے اس حوالے سے ڈیبٹ کارڈز کے استعمال کو محفوظ بنانے کے لیے کچھ مزید اقدامات کرنے کا بھی اعلان کیا۔
واضح رہے سال 2013 میں ایک سو ملین امریکی شہری ایسے کارڈز کی وجہ سے کسی نہ کسی واردات کا نشانہ بن چکے ہیں۔
صدر نے کہا '' میں کھانا پیش کرنے والی خاتون کے سامنے وضاحت کر رہا تھا کہ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ میں اپنے بل خود ادا کرتا رہا ہوں، لیکن اس کے باوجود اس واقعے سے دوچار ہونا پڑا ہے۔''
امریکی صدر کو سالانہ چار لاکھ ڈالر تنخواہ ملتی ہے جبکہ پچاس ہزار ڈالر کی خریداری ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر کر سکتا ہے۔