.

یمن:حوثیوں کا وسطی صوبے سے انخلاء سے انکار

جامعہ ایب حوثیوں کے اڈے میں تبدیل، تدریسی سرگرمیاں معطل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی شیعہ باغیوں نے وسطی صوبے ایب سے اپنے انخلاء سے متعلق ایک سمجھوتے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے۔

صنعا سے العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ حوثی باغیوں نے ایب یونیورسٹی میں ڈیرے جما رکھے ہیں اور اس کو اپنے فوجی اڈے میں تبدیل کردیا ہے جس کے بعد جامعہ نے تدریسی سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔

حوثی باغیوں نے اتوار کے روز صوبہ ایب کے شمال میں واقع قصبے یریم پر قبضہ کر لیا ہے۔اس قصبے کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ نفوس پر مشتمل ہے۔یہ دارالحکومت صنعا سے ایک سو ستر کلومیٹر کے فاصلے پر جنوبی صوبوں کی جانب شاہراہ پر واقع ہے۔

حوثی باغیوں نے ہفتے کے روز اس قصبے میں اسلامی جماعت الاصلاح سے تعلق رکھنے والے ایک معروف سیاست دان کے مکان پر قبضہ کر لیا تھا۔قبضے کی کارروائی کے دوران لڑائی میں بارہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔یمنی حکام کے مطابق حوثیوں نے آج اتوار کو اس مکان کو دھماکے سے اڑا دیا ہے۔

صوبہ ایب میں یہ پیش رفت جنوبی صوبے البیضاء کے قصبے رداع میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے حملوں کے بعد ہوئی ہے۔القاعدہ نے وہاں سے شیعہ باغیوں کو مار بھگایا ہے۔البیضا اور جنوبی شہر ایب میں شیعہ حوثی باغیوں اور اہلِ سنت قبائلیوں کے درمیان گذشتہ دوروز کے دوران جھڑپوں میں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

حوثی باغی گذشتہ روز رداع میں داخل ہوئے تھے اور انھیں کسی نمایاں مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا لیکن اس کے بعد القاعدہ کے جنگجوؤں نے ان پر چاروں اطراف سے حملہ کر دیا اور انھیں اس شہر سے نکل جانے پر مجبور کر دیا ہے۔

ادھر دارالحکومت صنعا میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے مقامی حکومت کے ہیڈ کوارٹرز پر دھاوا بول دیا ہے۔ یمنی حکام کے مطابق باغیوں نے صنعا کے گورنر عبدالغنی جمیل کا پیچھا کیا ہے اوران پر بدعنوان ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔