یمن کے جنوبی علاقوں میں القاعدہ کا کنڑول مضبوط
یمنی دارلحکومت صنعاء سے العربیہ کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ القاعدہ کے جنگجووں نے بدھ جمعرات کی شب جنوبی گورنری ایب کے شہر العدين کا کنٹرول حاصل کر لیا۔
اس سے قبل بدھ کے روز القاعدہ کے جنگجووں کا وسطی یمن کے علاقے میں شیعہ مسلک حوثی باغیوں سے تصادم ہوا۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق اس تصادم کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوئے۔
اطلاعات کے مطابق القاعدہ کے جنگجووں نے صنعاء کے جنوبی مشرقی صوبے البیضاء کے شہر رادع سے ابھرنے والے باغیوں کو للکارا ہے۔ یہ باغی دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے مختلف حصوں کا کںٹرول حاصل کرتے جا رہے ہیں۔
انصاراللہ کے نام سے معروف باغیوں نے منگل کے روز اپنا تسلط بحیرہ احمر کے ساحلوں تک پھیلا لیا۔ ملک کو درپیش بحران کے حل کی کوششوں کے ضمن میں نئے یمنی وزیر اعظم کی نامزدگی کے فوری بعد ہی باغیوں نے بحیرہ احمر کی اہم بندرگارہی شہر الحدیدہ کا کنڑول سنبھال لیا تھا۔
حکومت اور سنی جنگجووں کے خلاف برسرپیکار باغی ملک کے جنوبی علاقوں میں واقع اپنے ٹھکانوں سے کارروائیاں کرتے ہیں۔ اس کارروائیوں میں انہیں بہت زیادہ کامیابی ملی ہے۔
جزیرہ نما عرب میں سرگرم القاعدہ تنظیم کی یمنی شاخ ہے، اسے امریکا ایک انتہائی خطرناک گروپ قرار دے چکا ہے اور حالیہ چند دنوں کے دوران تنطیم کے متعدد رہنماوں کو امریکی ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
القاعدہ، ملک کی سنی مسلک اکثریت کو شیعہ مسلک اقلیت کے حملوں اور بغاوت سے تحفظ دلانا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لئے تنظیم ملک کے جنوب اور مشرقی علاقوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی نشانہ بنانے سے نہیں چوکتی۔
یاد رہے کہ سنہ 2012ء میں علی عبداللہ صالح جیسے مرد آہن کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے غربت کے مارے یمن میں سیاسی عدم استحکام کا دور دورہ ہے، جس کے بعد ملک کے طول وعرض میں پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔